ٹوکیو۔21جنوری (اے پی پی):جاپان کی عدالت نے سابق وزیرِ اعظم شنزو آبے کے قتل کے مقدمے میں ٹیٹسویہ یاماگامی کو مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنا دی ہے ۔تاس کے مطابق یاماگامی نے انتخابی مہم کے دوران بندوق سے شنزو آبے کو نشانہ بنایا تھا۔عدالتی کارروائی کے دوران یاماگامی نے منصوبہ بندی کے تحت قتل اور اسلحہ کنٹرول قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات کا اعتراف کیا،تاہم …
جاپان کے سابق وزیرِ اعظم شنزو آبے کےقاتل کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی

مزید خبریں
ٹوکیو۔21جنوری (اے پی پی):جاپان کی عدالت نے سابق وزیرِ اعظم شنزو آبے کے قتل کے مقدمے میں ٹیٹسویہ یاماگامی کو مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنا دی ہے ۔تاس کے مطابق یاماگامی نے انتخابی مہم کے دوران بندوق سے شنزو آبے کو نشانہ بنایا تھا۔عدالتی کارروائی کے دوران یاماگامی نے منصوبہ بندی کے تحت قتل اور اسلحہ کنٹرول قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات کا اعتراف کیا،تاہم اس کے وکلا نے عدالت سے 20 سال قید کی سزا دینے کی استدعا کی تھی۔
دفاعی وکلا کا مؤقف تھا کہ ملزم نے یہ اقدام شدید ذہنی دباؤ میں آ کر کیا، جو اس کے خاندانی حالات سے جڑا تھا۔ وکلا کے مطابق یہ دباؤ اس کی والدہ کی ایک مذہبی گروہ سے وابستگی کے باعث پیدا ہوا، جسے عام طور پر یونیفکیشن چرچ کے نام سے جانا جاتا ہے۔عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد عمر قید کی سزا سناتے ہوئے کہا کہ یہ جرم نہایت سنگین نوعیت کا ہے اور اس کے جاپانی معاشرے پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔








