"گلگت بلتستان حکومت نے تمباکو، سگریٹ اور ان سے جڑی ہر قسم کی مصنوعات کی تشہیر، پروموشن اور سپانسرشپ پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔”
گلگت بلتستان حکومت نے تمباکو مصنوعات کی تشہیر اور سپانسرشپس پر پابندی عائد کر دی

مزید خبریں
گلگت۔ 04 اگست (اے پی پی):گلگت بلتستان حکومت نے تمباکو مصنوعات کی تشہیر اور سپانسرشپس پر پابندی عائد کر کے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں نارکوٹکس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ مراسلے کے مطابق گلگت بلتستان میں تمباکو، سگریٹ اور اس سے جڑی ہر قسم کی مصنوعات کی تشہیر، پروموشن اور سپانسرشپ پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
قانون کے اس تاریخی نفاذ کے تحت خاص طور پر تعلیمی اداروں اور صحت کے مراکز (ہسپتالوں و ڈسپنسریوں) کے ارد گرد 200 میٹر کی حدود میں تمباکو اور سگریٹ کی فروخت، سٹوریج، نمائش اور کسی بھی قسم کی تشہیر کوجرم قرار دے کر اس پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے ۔ محکمہ نارکوٹکس نے گلگت، بلتستان اور دیامر ریجن کے سرکل افسران کو پابند کیا ہے کہ وہ صحت اور تعلیم کے شعبوں کے ساتھ مل کر تمام دکانداروں کو نوٹسز جاری کریں اور 15 دنوں کے اندر تمباکو کے تمام بینرز اور اشتہارات ہٹا کر تعمیلی رپورٹ جمع کروائیں۔ نارکوٹکس ڈیپارٹمنٹ کے اس اقدام کوعوامی و سماجی حلقوں نے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمباکو نوشی چونکہ تمام دیگر منشیات کی جانب پہلا قدم اور پہلی سیڑھی سمجھی جاتی ہے، اس لیے اس کی روک تھام سے خطے کے نوجوانوں، طلبہ اور مریضوں کو ایک محفوظ اور تمباکو سے پاک ماحول میسر آئے گا۔ عوام نے گلگت بلتستان حکومت اور متعلقہ حکام کے اس عمل کو تاریخ ساز اور صحت مند معاشرے کی تشکیل کی طرف اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔







