عالمی امن، استحکام اور ترقی میں چین کا انتہائی اہم کردار ہے،وزیراعظم محمد شہباز شریف کا عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی 77ویں سالگرہ کے موقع پر تقریب سے خطاب، چین کے صدر شی جن پنگ اور چین کے عوام کو دلی کی گہرائیوں سے مبارکباد
عالمی امن، استحکام اور ترقی میں چین کا انتہائی اہم کردارہے،وزیراعظم محمدشہبازشریف کا عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی 77ویں سالگرہ کے موقع پر تقریب سے خطاب، چین کے صدر شی جن پنگ اور چین کے عوام کو دلی کی گہرائیوں سے مبارکباد

مزید خبریں
اسلام آباد۔30ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نےچین کے صدر شی جن پنگ اور چین کے عوام کو دل کی گہرائیوں سے قومی دن پرمبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی امن، استحکام اور ترقی میں چین کا انتہائی اہم کردار ہے،سی پیک کےنئے فیز میں صنعتکاری، خصوصی اقتصادی زونز، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت، زراعت، کان کنی اور معدنیات پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کوعوامی جمہوریہ چین کے قیام کی 77ویں سالگرہ کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ چین کے قومی دن کی تقریب میں شرکت میرے لئے باعثِ مسرت ہے۔ اس موقع پر چین کے صدر شی جن پنگ اور چین کے عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔وزیراعظم نے کہا کہ یہ تاریخی دن عظیم چینی قوم کی ثابت قدمی، اتحاد اور ناقابلِ تسخیر جذبے کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی امن، استحکام اور ترقی میں چین کا انتہائی اہم کردار ہے،صدر شی جن پنگ کی دوراندیش قیادت میں چین نے انسانی ترقی، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبوں میں بے مثال ترقی کی ہے،سال 2026 پاکستان اور چین کے مشترکہ سفر میں ایک خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں،ہمارے دل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ایک ساتھ دھڑکتے ہیں، ہماری دوستی نے ہمیشہ وقت کے ہر امتحان خواہ وہ زلزلے ہوں، طوفان ہوں یا سیلاب، کا سامنا کیا ہے۔شہبازشریف نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ہماری دیرینہ دوستی اور اپنے عوام کے لئے زیادہ خوشحال اور ترقی یافتہ مستقبل کے مشترکہ عزم کی مظہر ہے،اب ہم سی پیک کے اگلے مرحلے سی پیک 2.0 میں داخل ہو رہے ہیں،نئے فیز میں صنعتکاری، خصوصی اقتصادی زونز، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت، زراعت، کان کنی اور معدنیات پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی،زراعت کے شعبے میں ہونے والی پیشرفت انتہائی خوش آئند ہے،پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار زرعی گریجویٹس کے پہلے گروپ نے چین میں اپنی تربیت مکمل کر لی ہے،مزید 1,000 افراد پر مشتمل اگلا گروپ چین جانے کے لئے تیار ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ یہ ہمارے نوجوانوں کی صلاحیتوں اور ان کے مستقبل میں ایک قیمتی سرمایہ کاری ہے، پاکستان چین تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہیں،رواں سال مئی میں صدر شی جن پنگ کے ساتھ گفتگو ہماری دیرینہ دوستی کی ایک مضبوط تجدیدِ عہد تھی، ہم دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان طے پانے والی اہم مفاہمت پر عملدرآمد کے لئے پوری طرح پُرعزم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی امن، استحکام اور ترقی میں چین کی غیر معمولی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی شراکت، دنیا بھر کے ممالک بالخصوص پاکستان کو متاثر کرتی رہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ چینی زبان کا ایک خوبصورت قول ہے دور دیس میں موجود مخلص دوست، دور کی سرزمین کو قریب کر دیتا ہے، یہ الفاظ ہمارے دونوں عظیم ممالک کے درمیان دوستی اور قربت کی بہترین عکاسی کرتے ہیں۔انہوں نے اس پختہ عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان، چین کے ساتھ مل کر ‘نئے دور میں مشترکہ مستقبل کی حامل، مزید قریبی پاک-چین کمیونٹی’ کی تعمیر کی جانب پیش قدمی جاری رکھے گا۔انہوں نے پاک-چین دوستی زندہ باد کا نعرہ لگایا۔تقریب میں چینی سفیر جیانگ زائیڈونگ نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان ہر موسم کے تزویراتی تعاون کے شراکت دار ہیں،پاکستان اپنے اصولی مؤقف، وسیع عالمی وژن اور اعلیٰ سفارتی بصیرت کے باعث بین الاقوامی سطح پر بڑھتا ہوا اہم کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کثیرالجہتی اور بین الاقوامی تعاون کی حمایت کی ، خطے اور اس سے باہر امن و سلامتی کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں پاکستان کے قومی مفادات کا مضبوطی سے دفاع کیا،اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں بین الاقوامی اور علاقائی مسائل پر پاکستان کے مؤقف کو پیش کیا گیا جسے عالمی برادری کی جانب سے سراہا گیا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 75 برسوں کا شاندار سفر ثابت کرتا ہے کہ چین اور پاکستان ایسے دوست ہیں جنہوں نے خوشی اور غم میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا،پاکستان اور چین ہر وقت میں بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے مختلف شعبوں میں چین پاکستان عملی تعاون کو ہمیشہ بہت اہمیت دی ہے۔انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان بین الاقوامی سطح پر بھی قریبی رابطہ اور تعاون برقرار رہا ہے۔ مارچ میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بیجنگ میں سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کے رکن اور وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ مذاکرات کئے اور دونوں فریقین نے خلیج اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی بحالی کے لئے مشترکہ طور پر پانچ نکاتی اقدام جاری کیا۔ ستمبر میں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے نیویارک میں چین کی میزبانی میں منعقدہ ‘گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو’ (عالمی ترقیاتی اقدام) سے متعلق اعلیٰ سطحی تقریب میں شرکت کی۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں انہوں نے صدر شی جن پنگ کی بصیرت افروز قیادت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ صدر شی جن پنگ نے چار عالمی اقدامات تجویز کئے اور ان کے نفاذ کو فروغ دیا ہے اور ان اقدامات کو بنیاد بناتے ہوئے ہم یقیناً مشترکہ طور پر انسانیت کے لئے ایک مشترکہ مستقبل تعمیر کرنے کے قابل ہوں گے، ہم وزیراعظم کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک نئے تاریخی موڑ پر کھڑے ہو کر ہم پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہیں تاکہ مختلف شعبوں میں اپنی آہنی دوستی اور ہمہ جہت تعاون کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ہم صدر شی جن پنگ اور پاکستانی قیادت کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاقِ رائے پر عملدرآمد کریں گے، "نئے دور میں چین-پاکستان مشترکہ مستقبل کے مزید قریبی معاشرے کی تعمیر” کے ایکشن پلان میں ٹھوس پیشرفت کریں گے اور سیاسی باہمی اعتماد کی قوت کو تعاون اور ترقی کے لئے پائیدار محرک میں تبدیل کریں گے۔چینی سفیر نے کہا کہ عملی تعاون کو گہرا کریں گے اور باہمی مفاد اور دونوں فریقوں کی کامیابی کے نتائج حاصل کریں گے۔ صنعت، زراعت اور کان کنی کے تین ترجیحی شعبوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ہم سی پیک 2.0 کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو مضبوطی سے آگے بڑھائیں گے اور چین-پاکستان آزاد تجارتی معاہدے کے جدید اور بہتر ورژن کی تیاری میں تیزی لائیں گے تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعاون کو وسیع تر شعبوں اور گہرائی تک بڑھایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ عوام کی فلاح و بہبود کی ضروریات کو پورا کریں اور عوامی حمایت کو مستحکم کریں،ہم عوام کی فلاح و بہبود کے مزید "چھوٹے مگر بہترین” منصوبے شروع کریں گے اور بلوچستان میں صاف پانی کے 100 مراکز کی تعمیر، 1,000 سمارٹ کلاس رومز کی اپ گریڈیشن اور ایک لاکھ سکول کٹس کی تقسیم کے عمل کو تیز کریں گے، ہم صحت، تعلیم، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنائیں گے اور یونیورسٹیوں، تھنک ٹینکس، نوجوانوں اور خواتین کے درمیان تبادلوں کو وسعت دیں گے تاکہ ہماری دوستی کی بنیاد کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ سکیورٹی تعاون کو بڑھانا اور تحفظ کا ایک مضبوط حصار قائم کرنا، ہم دفاع، سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کریں گے، ہر قسم کی دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور اپنی اپنی ترقی اور علاقائی استحکام کے لئے ٹھوس ضمانت فراہم کریں گے۔







