اسلام آباد۔31اگست (اے پی پی):نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جنرل مینجر ٹیکنالوجی ر زہرہ حسن نے مستقبل کی آفات سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی، ڈیٹا اور افرادی قوت سے فائدہ اٹھانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ آنے والے موسمی حالات رواں سال درپیش موسم سے بھی زیادہ شدید ہو سکتے ہیں۔اتوار کو اپنے ایک انٹر ویو کے دوران زہرہ حسن نے روشنی ڈالی کہ چھ ماہ قبل این ڈی ایم اے نے ملک بھر میں بدلتے ہوئے موسمی حالات کے بارے میں ایک ایڈوائزری وارننگ جاری کی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایڈوائزری میں موسمیاتی واقعات کی بڑھتی ہوئی غیر متوقع صلاحیت اور تیاری کی ضرورت پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ انتباہات نہ صرف بروقت ہیں بلکہ درست بھی ہیں کیونکہ موسم کے انداز میں تبدیلیاں توقع سے پہلے ہی تیز ہونا شروع ہو گئی تھیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس سال مون سون کا سیزن ایک ہفتہ قبل شروع ہوا تھا اور اسے ختم ہونے میں زیادہ وقت لگ رہا ہے جس سے شدید بارشیں طویل ہو رہی ہیں اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے چیلنجز میں اضافہ ہو رہا ہے۔زہرہ حسن نے مزید بتایا کہ موسمیاتی نمونوں میں تبدیل دیکھنے میں آئی جس نے مقامی ماحولیاتی نظام اور کمیونٹیز پر نمایاں اثرات مرتب کیے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کی تبدیلیاں زیادہ بار بار اور شدید ہوتی جا رہی ہیں جو آنے والے سالوں میں بہتر آفات کے انتظام اور لچکدار منصوبہ بندی کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اس طرح کے موسمی حالات اور بھی زیادہ شدید خطرات کا سبب بن سکتے ہیں، ہمیں آئندہ چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار رہنے کی ضرورت ہے۔زہرہ حسن نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ این ڈی ایم اے ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے اور ہم نے اپنے نظام اور جوابی صلاحیتوں کو مضبوط کر لیا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی این ڈی ایم اے ڈیٹا کے وسیع نیٹ ورک، افرادی قوت میں اضافہ اور جدید تکنیکی سہولتوں کو استعمال کرتے ہوئے ان شدید چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے پوری طرح سے لیس ہے۔ این ڈی ایم اے حقیقی وقت میں ڈیٹا کے انضمام اور بہتر پیشن گوئی پر توجہ مرکوز کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں آنے والی آفات کے لیے تیز تر، زیادہ موثر ردعمل کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایک سوال کے جواب میں زہرہ حسن نے وضاحت کی کہ سیالکوٹ میں تقریباً 300 ملی میٹر بارش ہوئی جو خطے کے لیے ایک تاریخی اور بے مثال صورتحال ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے شدید موسم نے مقامی انفراسٹرکچر کو مغلوب کر دیا ہے اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے اہم چیلنجز کھڑے کر دیئے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیالکوٹ اور گجرات دونوں جاری خطرات کی وجہ سے ہائی الرٹ پر ہیں، حکام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بارش کے پیمانے اور ان شہروں کے خطرے کو دیکھتے ہوئے این ڈی ایم اے کسی بھی مزید نقصان کو کم کرنے کے لیے تیاری اور تیز ردعمل کو ترجیح دے رہا ہے۔