نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے عالمی برادری اور آسیان ریجنل فورم (اے آر ایف) پر زور دیا ہے کہ وہ خطے کے بنیادی تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کریں، جموں و کشمیر کا حل طلب تنازعہ اور بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کا فیصلہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجوہات ہیں۔ نائب وزیراعظم نے …
جموں و کشمیر کا حل طلب تنازعہ اور بھارت کا سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کا فیصلہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجوہات ہیں، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا اے آر ایف کے 33 ویں وزارتی اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
منیلا۔23جولائی (اے پی پی):نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے عالمی برادری اور آسیان ریجنل فورم (اے آر ایف) پر زور دیا ہے کہ وہ خطے کے بنیادی تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کریں، جموں و کشمیر کا حل طلب تنازعہ اور بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کا فیصلہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجوہات ہیں۔ نائب وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو یہاں اے آر ایف کے 33 ویں وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے عالمی اور علاقائی سلامتی کو درپیش آٹھ بڑے چیلنجوں کا ذکر کیا جن میں جنوبی ایشیا کا استحکام، خلیج کی صورتحال، غزہ، انسداد دہشت گردی، افغانستان، یوکرین، جنوبی بحیرہ چین اور موسمیاتی تبدیلی شامل ہیں۔ انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ دیرینہ تنازعات بالخصوص بھارت اور پاکستان کے درمیان جموں و کشمیر کے مسئلے کو حل نہ کیے جانے سے علاقائی استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہوئے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے منشور، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ محمد اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے اور اس سے پاکستان کے 25 کروڑ عوام کی زندگی اور روزگار کو خطرہ لاحق ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس سنگین اور اشتعال انگیز صورتحال کو نظر انداز کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ آئیے ہم سب امن اور استحکام کے معمار بنیں اور من مانے، غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات سے پیدا ہونے والے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کریں۔انہوں نے عالمی برادری بالخصوص اے آر ایف کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ ان من مانے، غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کا نوٹس لیں اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو یقینی بنائیں۔خلیج کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ خطے کی حالیہ صورتحال نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے امن کے قیام اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کے کردار کا اعادہ کرتے ہوئے اسلام آباد کی سفارتی کوششوں کا ذکر کیا جن میں جنگ بندی کے قیام میں سہولت فراہم کرنا اور اعلیٰ سطحی مذاکرات کا انعقاد شامل ہے جس کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔
محمد اسحاق ڈار نے پاکستان پر اعتماد کرنے پر امریکہ، ایران، خلیجی ممالک اور بین الاقوامی شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کریں، تحمل کا مظاہرہ کریں اور بات چیت کی حمایت کریں تاکہ علاقائی استحکام، آبنائے ہرمز کی بحالی اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کی بلاشرط بحالی یقینی بنائی جاسکے۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی بحران کا ذکر کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے غزہ میں ہونے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر مربوط فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔عالمی انسداد دہشت گردی کے حوالے سے انہوں نے پاکستان کی بے مثال قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی اور 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان برداشت کیا۔ ا
نہوں نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ افغان سرزمین کو تحریک طالبان پاکستان (فتنہ الخوارج) اور اس سے منسلک گروہوں سمیت کسی بھی دہشت گرد تنظیم کی جانب سے ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان وعدوں کی تکمیل سے جنوبی اور وسطی ایشیا میں تجارت اور علاقائی روابط کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔ دیگر عالمی امور پر پاکستان کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے یوکرین اور جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے سفارتی حل کی حمایت کا اظہار کیا اور ون چائنا پالیسی پر پاکستان کے پختہ عزم کو دہرایا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کہا کہ عالمی کاربن اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہونے کے باوجود ملک موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہے، لہٰذا مشترکہ مگر مختلف ذمہ داریوں کے اصول کے تحت بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔
نائب وزیراعظم نے منیلا پلان آف ایکشن 2026 کی منظوری کا خیرمقدم کیا اور میزبان ملک فلپائن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان معاہدہ دوستی و تعاون کے بنیادی اصولوں اور آسیان ریجنل فورم کے اتفاق رائے پر مبنی وژن سے اپنی وابستگی کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آسیان کے اتفاق رائے پر مبنی طرز عمل کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور مصنوعی ذہانت (اے آئی)، سائبر سکیورٹی، موسمیاتی تبدیلی، غذائی و توانائی تحفظ، قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت اور صحتِ عامہ کی تیاری جیسے روایتی اور ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مضبوط تعاون کا حامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسیان ریجنل فورم کو بات چیت، عملی تعاون اور علاقائی و عالمی سلامتی کو درپیش بدلتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کی اپنی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار جاری رکھنا چاہیے۔








