31.6 C
Islamabad
اتوار, اپریل 6, 2025
ہومقومی خبریںجنسی تشدد ایک انتہائی گھناﺅنے جرائم میں سے ایک ہے، یہ بین...

جنسی تشدد ایک انتہائی گھناﺅنے جرائم میں سے ایک ہے، یہ بین الاقوامی انسانی حقوق اورقوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، ترجمان دفترخارجہ

- Advertisement -

اسلام آباد۔19جون (اے پی پی):ترجمان دفترخارجہ نے کہا ہےکہ جنسی تشدد ایک انتہائی گھنائونے جرائم میں سے ایک ہے ،یہ بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی قوانین دونوں کی سنگین خلاف ورزی ہے ، بین الاقوامی برادری پر یہ فرض ہے کہ وہ جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی مفادات سے بالاتر ہو کر متاثرین کو تحفظ فراہم کرنے اور جنسی تشدد کے مرتکب افراد کو جوابدہ ٹھہرانے میں اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے ساتھ اپنی وابستگی کا مظاہرہ کرے۔

اتوار کو تنازعات میں جنسی تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں ترجمان دفتر کارجہ نے کہا کہ پاکستان تنازعات میں جنسی تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کو منانے کے لئے عالمی برادری کے ساتھ شامل ہے، جو تنازعات کے علاقوں میں ہر قسم کے تشدد، استحصال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ختم کرنے کے ہمارے مشترکہ عزم کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس دن، ہم تمام انسانی حقوق کی عالمگیریت اور تنازعات والے علاقوں اور مقبوضہ علاقوں میں ان کے مساوی اطلاق کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔

- Advertisement -

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جنسی تشدد ایک انتہائی گھنائونے جرائم میں سے ایک ہے جو شورش زدہ علاقوں میں قابض افواج کے ذریعہ کیا جاتا ہےاور بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی قوانین دونوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ماضی کی جنگوں کے ساتھ ساتھ موجودہ تنازعات کے تجربات ان بدقسمت واقعات وہاں پھنسے ہوئے لوگوں کی کسمپرسی کے عجیب و غریب حالات کی نشاندہی کرتے ہیں۔

بین الاقوامی برادری پر یہ فرض ہے کہ وہ جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی مفادات سے بالاتر ہو کر متاثرین کو تحفظ فراہم کرنے اور جنسی تشدد کے مرتکب افراد کو جوابدہ ٹھہرانے میں اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے ساتھ اپنی وابستگی کا مظاہرہ کرے۔ اس دن ہمیں بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر کے بہادر لوگوں کو نہیں بھولنا چاہیے، جنہیں بھارتی قابض افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں کا سامنا ہے۔

بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں عصمت دری کو کشمیریوں کی آواز دبانے کے ایک آلے کے طور پر اور اجتماعی سزا کے ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر کی خواتین، لڑکیوں اور بچوں نے حالیہ دنوں میں جنسی تشدد کی سب سے زیادہ خوفناک اشکال دیکھی ہیں۔ 23 فروری 1991کو بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر کے کنن پوش پورہ دیہات میں کشمیری خواتین سے ہولناک اجتماعی عصمت دری کے واقعات ہوئے اور متاثرین ابھی تک انصاف کے منتظر ہیں۔

ہندوستانی ریاستی مشینری نے بھارت اپنے غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی آواز دبانے، انہیں محکوم بنانے اورغاصبانہ ہتھکنڈے استعمال کرکے حق خودارادیت کے جائز حق جس کا وعدہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کیا گیا ہے سے روکنا چاہتا ہے جس کے لیے وہ جنسی تشدد کا ارتکاب کرتا آرہا ہے۔ تاہم پرعزم کشمیری اپنے منصفانہ مقصد کے لیے ڈٹے ہوئے ہیں۔ 5 اگست 2019 سے، بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بچوں سمیت تمام خواتین کے خلاف جنسی تشدد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر نے اپنی دو کشمیر رپورٹسں میں، اقوام متحدہ کے خصوصی طریقہ کار مینڈیٹ ہولڈرز نے اپنی مشترکہ اعلامیہ، بین الاقوامی سول سوسائٹی اور میڈیا نے اپنی اشاعتوں میں بھی وسیع پیمانے پر جنسی تشدد کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اقوام متحدہ کے انکوائری کمیشن سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندوستانی قابض افواج بلا روک ٹوک اس کا ارتکاب کر رہی ہیں ۔ بدقسمتی سے، مجرموں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے ان تمام بین الاقوامی مطالبات کو بھارت نے کھلم کھلا مسترد کیا ہے۔

ہندوستانی ریاستی مشینری، عدلیہ اور میڈیا کے درمیان ملی بھگت سے استثنی کا ایک وسیع کلچر موجود ہے۔ بین الاقوامی برادری کو بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے خلاف جنسی جرائم کا نوٹس لینا چاہیے اور ان سنگین جرائم کے مجرموں کے خلاف پابندیوں سمیت مختلف میکانزم کے ذریعے ان قابل مذمت کارروائیوں کے مرتکب افراد کو جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔ بھارت پر زور دیا جانا چاہیے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام کرے، خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، چوتھے جنیوا کنونشن اور اس کے اضافی پروٹوکول 1 کا احترام کرے۔ پاکستان مظلوموں اور جنسی تشدد کا شکار ہونے والوں کے حق میں آواز بلند کرتا رہے گا۔

 

Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=313293

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں