جنگ نہیں مکالمہ وقت کی ضرورت ہے ، احسن اقبال کا عالمی برادری کو پیغام

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی ، اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ بداعتمادی کو مکالمہ پر فوقیت ، تحمل غالب آنا چاہیے اور حکمت کو جنگ کے جذ بہ پر فتح حاصل کرنی چاہیے، تنازعات کا جاری رہنا نہ صرف خطے بلکہ عالمی برادری کے لیے تباہ کن ہوگا۔

اسلام آباد۔11اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی ، اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ بداعتمادی کو مکالمہ پر فوقیت ، تحمل غالب آنا چاہیے اور حکمت کو جنگ کے جذ بہ پر فتح حاصل کرنی چاہیے، تنازعات کا جاری رہنا نہ صرف خطے بلکہ عالمی برادری کے لیے تباہ کن ہوگا۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر ہفتہ کو اپنے ایک ٹویٹ میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو اسلام آباد امن مذاکرات کی میزبانی اور متحارب فریقین کو میدان جنگ سے مذاکرات کی میز پر لانے کےلئے کردار ادا کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے پاکستان، ایران اور امریکا کی قیادت سمیت تمام برادر ممالک کو خراج تحسین پیش کیا جن کی تعمیری کاوشوں سے امن کا یہ موقع ممکن بنا ہے۔

پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ ہماری کوشش کی رہنمائی ایک سادہ یقین سے ہوئی ہے، کہ بداعتمادی کو مکا لمہ کی طرف لانا چاہیے، تحمل کو بڑھنے پر غالب آنا چاہیے اور حکمت کو جنگ کے جذبہ پر فتح حاصل کرنی چاہیے۔ انہوں نےکہا کہ تنازعات کا جاری رہنا نہ صرف خطے بلکہ عالمی برادری کے لیے تباہ کن ہوگا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ بحران اب علاقائی معاملہ نہیں رہا۔ اس کے معاشی آفٹر شاکس پہلے ہی آسٹریلیا سے لے کر امریکاسمیت تمام 193 ممالک میں مہنگائی کے دباؤ، توانائی کی رسد میں خلل، غیر مستحکم مارکیٹوں اور بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے ذریعے محسوس کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تنازعہ جاری رہتا ہے تو مزید لاکھوں لوگ غربت میں دھکیلے جا سکتے ہیں، ناکامی کا بوجھ صرف جنگجوؤں پر نہیں پڑے گا بلکہ جنگ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والا عدم تحفظ، مہنگائی اور عدم استحکام پوری دنیا کے عام مرد، خواتین اور بچے برداشت کریں گے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوں گے۔ ان کی کامیابی نہ صرف علاقائی امن کے لیے بلکہ دنیا بھر کے لاکھوں خاندانوں کے معاشی تحفظ اور مستقبل کے لیے بھی اہم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ ی یہ یاد نہیں رکھے گی کہ مشکل کس نے پیدا کی تھی بلکہ ان لوگوں کو یاد رکھے گی جنہوں نے ایک وسیع جنگ کو روکنے کے لیے دانشمندی اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔

اپنے ٹویٹ کے آخر میں احسن اقبال نے سی این این، بی بی سی ورلڈ، رائٹرز، اے جے انگلش، اے پی، پاکستان کی سفارتی فتح، امن مذاکرات، اسلام آباد معاہدہ،امن کاسفیرپاکستان ،امن کو لازمی فتح حاصل ہونی چاہئے اور ایران جبگ کے ہیش ٹیگز بھی شیئر کئے۔