جنیوا۔27اگست (اے پی پی):ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ای تھری ممالک (برطانیہ، جرمنی اور فرانس )کے ساتھ جنیوا میں ہونے والے مذاکرات بغیر کسی حتمی نتیجے کے ختم ہو گئے ۔ روسی خبررساں ادارے تاس کے مطابق ای تھری ممالک نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ ا پنی جوہری تنصیبات تک عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی ( آئی اے ای اے ) کے معائنہ کاروں کو رسائی دے اور نئے معاہدے کے لیے مذاکرات کی میز پر واپس آئے اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس کے خلاف پابندیاں دوبارہ نافذ کی جا سکتی ہیں۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ایران سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کرنے پر قائم ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ ای تھری ممالک اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل صحیح فیصلہ کریں تاکہ مذاکرات کو نئی زندگی دی جا سکے۔
واضح رہے کہ امریکا اور ای تھری ممالک نے جوہری معاہدے کے لیے اگست کی آخری تاریخ مقرر کی تھی، اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو وہ پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے کا عمل شروع کریں گے۔ادھر،ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ لاگو کی گئیں تو وہ نیوکلیئر نان پرولیفرشن معاہدہ ترک کر سکتا ہے۔