جوہری ہتھیاروں پر اخراجات میں ریکارڈ اضافہ ، دنیا ایٹمی اسلحے کی نئی دوڑ میں داخل ہو چکی ہے، رپورٹ

نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ سال دنیا بھر میں جوہری ہتھیاروں پر ہونے والے اخراجات میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔اردو نیوز کے مطابق جوہری ہتھیاروں پر پابندی کے لئے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارےانٹرنیشنل کیمپین ٹو ابالیش نیوکلیئر ویپنز (آئی سی اے این)نے کہا ہے

نیویارک۔9جون (اے پی پی):نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ سال دنیا بھر میں جوہری ہتھیاروں پر ہونے والے اخراجات میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔اردو نیوز کے مطابق جوہری ہتھیاروں پر پابندی کے لئے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارےانٹرنیشنل کیمپین ٹو ابالیش نیوکلیئر ویپنز (آئی سی اے این)نے کہا ہے کہ ایٹمی ہتھیار رکھنے والے9ممالک نے گزشتہ سال جوہری ہتھیاروں پر 119ارب ڈالر خرچ کیے، جو 2024 کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہے ۔ادارے کی طرف سے جاری رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا ایٹمی اسلحے کی ایک نئی دوڑ میں داخل ہو چکی ہے۔ آئی سی اے این کی ہی جانب سے ایک روز قبل جاری ہونے والی ایک الگ تحقیق میں بھی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے ماحول میں جوہری خطرات بڑھنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔تحقیق کے مطابق جوہری ہتھیاروں کی تیاری پر ہونے والے اخراجات میں یہ غیرمعمولی اضافہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب مختلف ممالک اپنے جوہری ذخائر کوجدید بنانے اور ان میں مزید ہتھیار شامل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔آئی سی اے این کی ڈائریکٹر پروگرامز اور تحقیق کی مشترکہ مصنفہ سوسی سنائیڈر نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال سے یہ خطرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں جو انتہائی تشویشناک امر ہے۔ سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ کچھ دہائیوں سے دنیا بھر میں جوہری وار ہیڈز کی مجموعی تعداد میں کمی آئی ہے اور رواں سال کے آغاز سے یہ تعداد کم ہو کر 12 ہزار 187تک پہنچ گئی ہے تاہم ساتھ ہی خبردار بھی کیا ہے کہ ممکنہ استعمال کے لیے دستیاب جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو بڑھ کر 9745 ہو چکی ہے۔ایس آئی پی آر آئی کے ڈائریکٹر کریم ہیگاڈ نے اے ایف پی کو بتایا کہ کہ اگرچہ دنیا میں جوہری ہتھیاروں کی مجموعی تعداد میں کمی آئی ہے تاہم جوہری خطرات بڑھ رہے ہیں۔ اے ایف پی نے ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ممالک نے زیادہ وار ہیڈز کو ذخیرے سے نکال کر ڈیلیوری سسٹم پر منتقل کیا۔انہوں نے کئی تشویشناک چیزوں کی طرف اشارہ کیا جن میں سٹریٹجک ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق معاہدوں کا کمزور ہونا اور جوہری طاقت رکھنے والے بڑے ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت کے نکات بھی شامل ہیں۔سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے پیش گوئی کی ہے کہ آنے والے سالوں میں دنیا میں جوہری ذخائر بڑھنا شروع ہو سکتے ہیں کیونکہ پرانے ہتھیاروں کو ختم کرنے کی رفتار سست پڑ رہی ہے جبکہ نئے ہتھیاروں کی تیاری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ دنیا کے تقریباً 83 فیصد جوہری ہتھیار صرف روس اور امریکا کے پاس ہیں جبکہ دونوں کے پاس پانچ، پانچ ہزار وار ہیڈز بھی موجود ہیں۔چین اس وقت اپنے جوہری ذخائر میں سب سے زیادہ تیزی سے اضافہ کر رہا ہے اور اس کے پاس 620کے قریب جوہری ہتھیار موجود ہیں۔