24.3 C
Islamabad
اتوار, اگست 31, 2025
ہومبین الاقوامی خبریںجی 20 گروپ میں مواصلات کی ترقی، سعودی عرب دوسرے نمبر پر...

جی 20 گروپ میں مواصلات کی ترقی، سعودی عرب دوسرے نمبر پر آگیا

- Advertisement -

ریاض ۔12اگست (اے پی پی):سعودی عرب مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی کے اشاریے میں امریکا کے بعد جی20 ممالک میں دوسرے نمبر پر آگیا ہے ۔ العربیہ اردو کے مطابق کمپنی نے جولائی کے لیے اپنی مواصلات کے شعبے کی رپورٹ میں بتایا کہ مملکت میں مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کا حجم 180 ارب ریال تک پہنچ گیا ہے جو جنوبی افریقہ، ملائیشیا، سنگاپور اور سپین کے شعبوں کو پیچھے چھوڑ رہا ہے۔

صکوک کیپٹل کے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ فارس القحطانی نے انٹرویو میں کہا کہ مملکت نے گزشتہ چھ سال میں مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں تقریبا 93 ارب ریال کی سرمایہ کاری کی ہے جس نے 3.5 ملین سے زیادہ گھروں میں فائبر آپٹک متعارف کرانے اور دس سے زیادہ قومی ڈیٹا سینٹر کی تعمیر اور چلانے میں مدد کی۔فارس القحطانی نےکہا کہ سعودی عرب کا مقصد مصنوعی ذہانت کے لیے خصوصی فیکٹریاں قائم کرنا اور شعبے کی خدمت کرنے والی اعلیٰ قدر والی کمپنیاں قائم کرنا بھی ہے۔ جیسے ’’ ہیومن ‘‘ اور پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی ذیلی کمپنی ’’ آلات ‘‘ ہے۔

- Advertisement -

انہوں نے اشارہ کیا کہ ان کوششوں نے مملکت کو عالمی سطح پر اعلیٰ درجے حاصل کرنے کے قابل بنایا ہے ۔ سعودی عرب نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی کے اشاریے میں جی20 ممالک میں دوسرا اور ڈیجیٹل سرکاری خدمات کے اشاریے میں چوتھا عالمی درجہ حاصل کرلیا ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کا حصہ جی ڈی پی میں تقریبا 2.6 فیصد ہے۔ ڈیجیٹل معیشت کا جی ڈی پی میں حصہ تقریبا 15.6 فیصد ہے۔ اس شعبے کا حجم تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق تقریبا 180 ارب ریال ہے۔فارس القحطانی نے بتایا کہ سپیکٹرم ایک سٹریٹجک وسیلہ ہے جس کا انتظام مواصلات، خلائی اور ٹیکنالوجی کمیشن کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مملکت مشرق وسطیٰ کے ان پہلے ممالک میں سے ایک ہے جنہوں نے نجی شعبے کو نجی بینڈز استعمال کرنے کا اختیار دیا ہے۔

سعودی عرب نے اسے 1000 میگاہرٹز سے زیادہ مختص کیا ہے۔ اس نے پانچویں نسل کے نیٹ ورکس کو 17 فیصد سے زیادہ تک وسعت دینے میں مدد کی۔ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک میں یہ اوسط 3 فیصد اور سپیکٹرم نے جی ڈی پی میں تقریبا 2.4 فیصد کا حصہ ڈالا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل تبدیلی اب ایک اضافی سہولت نہیں رہی بلکہ مختلف شعبوں میں پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے اور اضافی قدر پیدا کرنے کے لیے ایک سٹریٹجک ضرورت بن گئی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وزارت صنعت اور معدنی وسائل نے ’’ مستقبل کی فیکٹریاں ‘‘ پروگرام شروع کیا ہے جس کا مقصد 4,000 سے زیادہ فیکٹریوں کو مزدوروں کی کثرت سے مکمل یا نیم مکمل آٹومیشن میں تبدیل کرنا ہے جو صنعتی شعبے کا تقریبا ایک تہائی ہے۔

فارس القحطانی نے کہا کہ مالیاتی خدمات نے بھی ڈیجیٹل تبدیلی سے فائدہ اٹھایا ہے جس کے نتیجے میں مالیاتی ٹیکنالوجی (FinTech) کا شعبہ پیدا ہوا ہے جو سب سے تیزی سے ترقی کررہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیجیٹل سرکاری خدمات اور تکنیکی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی بدولت 2018 میں 10 کمپنیوں سے فنٹیک کمپنیوں کی تعداد 2023 میں 216 سے زیادہ ہو گئی ہے۔

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں