جے یو آئی(ف) کے دھرنے کے باعث شاہراہوں کی بندش سے جڑواں شہروں کے درمیان روزانہ سفر کرنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا،

اسلام آباد ۔ 4 نومبر (اے پی پی) جمعت علماء اسلام (ف) کے دھرنے نے جڑواں شہروں کے رہائشیوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا، مظاہرین کے اجتماع کی وجہ سے سکیورٹی کے خدشات بھی ہیں، وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی خدشات کے باعث شاہراہوں کی بندش سے جڑواں شہروں کے درمیان روزانہ سفر کرنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے،کاروباری سرگرمیوں میں کمی کے علاوہ ٹرانسپورٹ اور سکولز بھی …

اسلام آباد ۔ 4 نومبر (اے پی پی) جمعت علماء اسلام (ف) کے دھرنے نے جڑواں شہروں کے رہائشیوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا، مظاہرین کے اجتماع کی وجہ سے سکیورٹی کے خدشات بھی ہیں، وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی خدشات کے باعث شاہراہوں کی بندش سے جڑواں شہروں کے درمیان روزانہ سفر کرنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے،کاروباری سرگرمیوں میں کمی کے علاوہ ٹرانسپورٹ اور سکولز بھی بند ہیں، سکولوں کی بندش سے طلباء کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے۔ جمیعت علماء اسلام (ف) کے جاری دھرنے کی وجہ سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے رہائشیوں کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔ اپنے مطالبات کے لئے وفاقی دارالحکومت کی کشمیر ہائی وے پر بیٹھے ہوئے جمعیت علماء اسلام کے احتجاجی مظاہرین نے قریبی آبادیوں، مارکیٹوں اور مساجد کا کنٹرول سنبھالا ہوا ہے جس کی وجہ سے قریبی علاقوں کے رہائشیوں اور اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے دفاتر آنے اور جانے والوں کو شدید ترین مشکلات کا سامنا ہے اور چند کلومیٹر کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔ کاروباری برادری اس دھرنے سے سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے کیونکہ سڑکیں بند ہونے اور احتجاجی مظاہرین کی وجہ سے ان کو اپنے کاروبار کی جگہ پر پہنچنے میں مشکلات درپیش ہیں جبکہ شہری ضروریات زندگی کی خریداری کے لئے مارکیٹوں کا رخ کرنے سے بھی اجتناب کررہے ہیں جس کے نتیجہ میں کاروبار میں مندی کا سامنا ہے۔ پشاور موڑ پر ہارڈ ویئر سٹور کے مالک امجد عباسی نے کہا ہے کہ عام طورپر میں ہر روز صبح 11 بجے اپنی دوکان کھولتا ہوں لیکن گزشتہ چند روز سے دھرنے کے باعث سفرمیں مشکلات کی وجہ سے ایک بجے کے بعد دوکان پر پہنچ رہا ہوں۔ گزشتہ تین روز سے میں تقریباً فارغ بیٹھا رہتا ہوں کیونکہ دھرنے کی وجہ سے ان ایام میں صرف چند خریدار ہی میرے پاس پہنچ سکے ہیں۔ گارمنٹس شاپ کے باہر بیٹھے اس کے مالک ہدایت خان نے سوال کیا کہ انتظامیہ احتجاج کرنے والوں کے لئے شہر سے باہر کوئی جگہ مختص کیوں نہیں کرتی؟۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج سے ہمیشہ عام شہری، طلبہ، ملازمین اور کاروباری طبقہ ہی متاثرہوتا ہے۔ واضح رہے کہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر گزشتہ جمعرات اور جمعہ کو سکول اور تعلیمی ادارے بند رہے۔ اس حوالے سے سکول کے ایک طالب علم عدنان نے کہا کہ میر ے مڈ ٹرم کے امتحانات جاری ہیں لیکن گزشتہ 4 دنوں سے میں اپنے سکول نہیں جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ میں ابھی تک بھی اپنی تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں کچھ نہیں کہ سکتا۔ اس کے علاوہ والدین بھی بچوں کو سکول بھیجنے بارے پریشان ہیں کہ خدانخواستہ کوئی حادثہ رونما نہ ہو جائے۔ احتجاج کی وجہ سے ہزاروں افراد جو جڑواں شہروں کے مابین روزانہ میٹرو بس سروس کے ذریعے سفر کرتے تھے اب انہیں وین یا ٹیکسی کا استعمال کرنا پڑتا ہے اور انہیں مطلوبہ مقام تک رسائی نہیں ہوتی اور انہیں زیادہ دیر تک پیدل چلنے کے بعد اپنی منزل مقصود ملتی ہے یا پھر اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے انہیں منہ مانگے دام ادا کرنے پڑتے ہیں۔ علاوہ ازیں ٹیکسی ڈرائیورز بھی دھرنے کے ارد گرد کے علاقوں میں جانے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ جڑواں شہروں کے رہائشیوں نے اس حوالے سے کہا ہے کہ رہائشی اور تجارتی علاقوں کے نزدیک کسی بھی طرح کے احتجاج کی اجازت نہ دی جائے کیونکہ اس سے نہ صرف کاروباری، تعلیم، تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیںبلکہ عام شہری کی زندگی بھی اجیرن ہو جاتی ہے۔