لاہور۔31اگست (اے پی پی):آبی و ماحولیاتی امور کے ماہر نصیر میمن نے کہا ہے کہ دریائوں میں پانی کی سطح بلند ہونے اور نشیبی علاقے زیرِ آب آجا نے کا حل محض نئے ڈیموں کی تعمیر نہیں بلکہ بہتر ارلی وارننگ سسٹم، لینڈ یوز پلاننگ اور غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے میں ہے۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پنجاب میں حالیہ دنوں 10 لاکھ کیوسک تک پانی کے بہائو کا مرحلہ بیراج سے گزرا، اگر اس خطے میں چھوٹے ڈیم موجود بھی ہوتے تو اتنے بڑے بہائو کو روکنا ممکن نہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ2023 میں لیبیا کے شہر درنہ میں دو بڑے ڈیم ٹوٹنے سے 11 ہزار ہلاکتیں ہوئیں، پنجاب کے میدانی علاقے بڑے ڈیموں کے لیے جغرافیائی طور پر موزوں نہیں, بھارت کے رنجیت ساگر ڈیم جیسے بڑے آبی ڈھانچوں سے پانی چھوڑنے کے بعد نیچے بننے والے چھوٹے ڈیم یا بیراج خطرناک دبائو برداشت نہیں کر پاتے ، قادرآباد بیراج کو بھی حالیہ سیلاب کے دبائو سے بچانے کے لیے شگاف ڈالنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ 20 اگست کے بعد جموں، کشمیر، ہماچل پردیش اور بھارتی پنجاب میں بارشیں معمول سے700 فیصد زیادہ ہوئیں جس کا پانی دریائوں کے راستے پاکستان آیا، اس صورتحال کو ڈیم روک نہیں سکتے تھے ۔
انہوں نے تجاویز پیش کرتے ہوئے بتایا کہ صرف ارلی وارننگ سسٹم کے تحت بھارت سے ڈیٹا شیئرنگ کے بجائے ہمیں سیٹلائٹ ڈیٹا کے ذریعے بارشوں اور بہائو کی مانیٹرنگ کو بھی بڑھانا ہوگا۔اسی طرح لینڈ یوز پلاننگ کے تحت دریائوں کے قدرتی راستوں پر بنائی گئی ہائوسنگ اسکیمیں اور بستیاں ختم کرنا ہوں گی تاکہ پانی کا راستہ بلاک نہ ہو۔ریگولیشن کے تحت غیر قانونی تعمیرات اور ہائوسنگ سوسائٹیز جو فلڈ چینلز پر بنائی گئی ہیں، جانی و مالی نقصان میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔
نصیر میمن نے بتایا کہ بین الاقوامی ماحولیاتی اداروں جیسے ڈبلیو ڈبلیو ایف اور اقوام متحدہ کے ماہرین بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انڈس ڈیلٹا کو روزانہ کم از کم 5 ہزار کیوسک پانی ملنا چاہیے اور پانچ سال میں ایک بار بڑا ریلا (25 لاکھ کیوسک) ضرور جانا چاہیے تاکہ سمندر میں مٹی اور سلٹ پہنچ سکے۔ انہوں نے اس سوچ کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہ "پانی سمندر میں ضائع ہوتا ہے” کہا کہ دنیا کے ماہرین ڈیلٹا کے ماحولیاتی نظام کی بقا کے لیے اس پانی کو ناگزیر سمجھتے ہیں