فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی ریجنل کمیٹی برائے خوراک کے کنوینئر شاہد عمران نے کہا ہے کہ پاکستان کی حلال گوشت کی برآمدات میں اضافے کیلئے پیداوار،کولڈ اسٹوریج انفراسٹرکچر،بیماریوں پر قابو پانے
حلال گوشت کی برآمدات بڑھانے کے لیے لائیوسٹاک کے شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں، شاہد عمران

مزید خبریں
لاہور۔21جون (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی ریجنل کمیٹی برائے خوراک کے کنوینئر شاہد عمران نے کہا ہے کہ پاکستان کی حلال گوشت کی برآمدات میں اضافے کیلئے پیداوار،کولڈ اسٹوریج انفراسٹرکچر،بیماریوں پر قابو پانے، افزائش نسل اور بین الاقوامی سرٹیفکیشن کے نظام میں عملی اصلاحات ضروری ہیں۔اتوار کو لاہور میں نثار احمد،حنیف گجر کی قیادت میں ترقی پسند کسانوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی حلال فوڈ انڈسٹری تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور پاکستان دنیا کے بڑے لائیو اسٹاک پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہونے کے باعث حلال گوشت کی برآمدات میں نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جدید سائنسی طریقوں اور موثر انتظامی اصلاحات کے ذریعے لائیو اسٹاک کے شعبے کو ملکی معیشت کا مضبوط ستون بنایا جا سکتا ہے۔شاہد عمران نے کہا کہ ہر صوبے کے موسمی حالات،مقامی نسلوں اور پیداواری صلاحیتوں کے مطابق لائیو اسٹاک کی ترقی کیلئے الگ حکمت عملی اپنانا ضروری ہے۔ان کے مطابق پنجاب دودھ کی پیداوار میں سب سے آگے ہے جبکہ دیہی خواتین کی بڑی تعداد مویشی پالنے اور ڈیری سرگرمیوں سے وابستہ ہے،جو ان کی معاشی خود مختاری میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اون کی پراسیسنگ،مویشی منڈیوں، موبائل ویٹرنری کلینکس اور گوشت کی برآمدی سہولیات میں سرمایہ کاری سے صوبے کو گوشت اور اون کی پیداوار کا بڑا مرکز بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا میں قدرتی چراگاہوں پر پلنے والے جانوروں کی وجہ سے نامیاتی (آرگینک) لائیو اسٹاک مصنوعات کی برآمدات کے بھی روشن امکانات موجود ہیں۔








