قومی اسمبلی اجلاس ،مختلف وزارتوں کے مطالبات زر پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی تحریکیں پیش

قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث کے دوران خزانہ، داخلہ سمیت 7 مختلف وزارتوں کے مطالبات زر پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی تحریکیں پیش کی گئی ہیں

اسلام آباد۔21جون (اے پی پی):قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث کے دوران خزانہ، داخلہ سمیت 7 مختلف وزارتوں کے مطالبات زر پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی تحریکیں پیش کی گئی ہیں جبکہ وزارت اطلاعات و نشریات ، وزارت خارجہ، دفاع، صحت، تعلیم، قانون و انصاف سمیت 25 وزارتوں پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی تحریکیں پیش نہیں کی گئیں۔ اتوار کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث کے بعد اگلے مرحلے میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کے منظور شدہ اخراجات کے حوالے سے مطالبات زر کی منظوری کا عمل شروع ہوا۔ اپوزیشن کی جانب سے وزارت خزانہ، وزارت داخلہ و انسداد منشیات، وزارت قومی تحفظ خوراک و تحقیق، وزارت بجلی، وزارت پیٹرولیم اور کابینہ ڈویژن پر کٹوتی کی تحریکیں جمع کرائی گئیں جبکہ وزارت خارجہ، دفاع، اطلاعات و نشریات، دفاعی پیداوار، اقتصادی امور، مواصلات، وزارت مذہبی امور، وزارت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت، وزارت قومی ورثہ و ثقافت، ہائوسنگ اینڈ ورکس ، انسانی حقوق، صنعت و پیداوار، بین الصوبائی رابطہ، امور کشمیر و گلگت بلتستان و ریاستیں و سرحدی علاقہ جات، قانون و انصاف، ساحلی امور، پارلیمانی امور، اوورسیز پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل، منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، نجکاری ، ریلویز، سائنس و ٹیکنالوجی، آبی وسائل، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، موسمیاتی تبدیلی کی وزارتوں پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی تحریکیں پیش نہیں کی گئیں۔