اسلام آباد ۔ 4 نومبر (اے پی پی) اپوزیشن جماعتوں کے مارچ کے حوالہ سے حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ سیاسی شخصیات جب بھی کسی مسئلہ پر مذاکرات کرتی ہیں تو مسئلہ کا حل تلاش کر لیتی ہیں، ہم پرامید ہیں کہ مسئلہ کا بہت جلد حل نکال لیا جائے گا، حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور رہبر کمیٹی کے درمیان منگل کو دوبارہ …
حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ پرویز خٹک کا پریس کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد ۔ 4 نومبر (اے پی پی) اپوزیشن جماعتوں کے مارچ کے حوالہ سے حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ سیاسی شخصیات جب بھی کسی مسئلہ پر مذاکرات کرتی ہیں تو مسئلہ کا حل تلاش کر لیتی ہیں، ہم پرامید ہیں کہ مسئلہ کا بہت جلد حل نکال لیا جائے گا، حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور رہبر کمیٹی کے درمیان منگل کو دوبارہ مذاکرات ہوں گے۔ پیر کو ان خیالات کا اظہار انہوں نے مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر رہبر کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر کمیٹی کے کنوینئر اکرم خان درانی اور دیگر اراکین ان کے ہمراہ تھے۔ وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے احتجاجی مارچ کے حوالہ سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے اور رہبر کمیٹی نے ہمیں جو مطالبات پیش کئے ہیں وہ ہم اپنی قیادت تک پہنچائیں گے اور امید ہے کہ اس مسئلہ کا جلد حل تلاش کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی کمیٹی منگل کو دوبارہ رہبر کمیٹی کے کنوینئر اکرم خان درانی کی رہائش گاہ پر مذاکرات کرے گی، امید ہے ہم حتمی نتیجہ تک پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی شخصیات جب بھی کسی مسئلہ پر مذاکرات کرتی ہیں تو وہ مسئلہ کا کوئی نہ کوئی حل تلاش کر لیتی ہیں۔ اس موقع پر اکرم خان درانی نے کہا کہ کمیٹی نے اپنے پرانے مطالبات حکومتی کمیٹی کے سامنے رکھے ہیں جس پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ قبل ازیں حکومتی مذاکراتی ٹیم اور رہبرِ کمیٹی کے درمیان ملاقات مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پر مذاکرات ہوئے۔ حکومتی وفد کی قیادت وزیر دفاع پرویز خٹک کر رہے تھے جبکہ رہبر کمیٹی کی سربراہی کنوینئر اکرم خان درانی نے کی۔ حکومتی وفد میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین اسد عمر شامل تھے جبکہ رہبر کمیٹی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے فرحت اﷲ بابر، سیّد نیئر بخاری، قومی وطن پارٹی کے ہاشم بابر، نیشنل پارٹی طاہر بزنجو، اے این پی کے میاں افتخار حسین، مسلم لیگ (ن) کے ڈاکٹر عباداﷲ، جمعیت علماءاسلام پاکستان کے شاہ اویس نورانی، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے شفیق پسروری، پختونخوا عوامی پارٹی کے عبدالصمد اچکزئی شامل تھے۔









