اسلام آباد۔17جولائی (اے پی پی):پارلیمانی سیکرٹری برائےوزارت انسانی حقوق صبا ء صادق نے کہا ہے کہ حکومت خواتین کو انصاف کی فراہمی کیلئے پر عزم ہے،خواتین کیخلاف جرائم میں زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، ثناء یوسف، ایمان افروز اور ثانیہ کیسز کو ٹیسٹ کیسز بنانا جائے گا،ملزمان کے خلاف پراسیکیوشن کو اتنا مضبوط بنایا جائے گا کہ کوئی مجرم بچ نہ سکے،انسانی حقوق کی جہاں کہیں بھی خلاف ورزی ہو گی سخت ایکشن لیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہو ں نے انسانی حقوق کے حوالے سے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں سیکرٹری انسانی حقوق عبدالخالق شیخ، ایس پی آپریشنز سید کاظم نقوی، پراسیکیوٹر جنرل غلام سرور، صدر نیشنل پریس کلب اظہر جتوئی، ثناء یوسف، ایمان افروز ،ثانیہ کے لواحقین، سول سوسائٹی ، وکلاء اورمیڈیا نمائندگان سمیت دیگر شامل تھے۔
صباء صادق کا مزید کہنا تھا کہ گذشتہ دنوں بچیوں کے خلاف ہونے والےتین واقعات انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہیں،ان واقعات میں ملوث ملزمان کی گرفتاری پر اسلام آباد پولیس کا کردار لائق تحسین ہے، وزیراعظم کی ہدایت ہے کہ خواتین اور بچیوں کے خلاف جرائم میں زیرو ٹالرنس پالیسی ہے،خواتین کے خلاف جرائم میں انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں، پراسیکیوشن کو اتنا مضبوط بنانا چاہتے ہیں کہ کوئی بھی مجرم بچ نہ سکے،حکومت اس حوالے سے لائحہ عمل تشکیل دے رہی ہے،حکومت انصاف کی فراہمی کیلئے متاثرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہی ہے، معاشرے کو بہتر بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور حکومت اپنی اس ذمہ داری سے مکمل طور پر آگاہ ہے۔
اس موقع پر ایس پی آپریشنز سید کاظم نقوی نے اجلاس کو ملزمان کی گرفتاری کے حوالے آگاہ کیا کہ ملزمان کے خلاف چالان عدالتوں میں پیش کر دیئے گئے ہیں اور تمام ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔ پراسیکیوٹر جنرل غلام سرور نے کہا کہ نور مقدم کیس میں ملزم ظاہر جعفر کی سزائے موت کو سپریم کورٹ نے برقرار رکھا ہے،پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کی کوشش ہوتی ہے کہ تمام ملزمان کو قانون کے مطابق کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ اس موقع پر ثناء یوسف، ایمان افروز ،ثانیہ کے لواحقین نے بھی ان واقعات کے حوالے سے آگاہ کیا۔