24.7 C
Islamabad
اتوار, اگست 31, 2025
ہومقومی خبریںحکومت نے اے آئی پروٹوٹائپس کے اجراء کیلئے فی منصوبہ 10 لاکھ...

حکومت نے اے آئی پروٹوٹائپس کے اجراء کیلئے فی منصوبہ 10 لاکھ روپے مختص کر دیئے

- Advertisement -

اسلام آباد۔25اگست (اے پی پی):حکومت نے اعلان کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ہر اُس منصوبے کیلئے جو پروٹوٹائپ کے مرحلے تک پہنچے گا،10لاکھ روپے تک کا مالی پیکیج فراہم کیا جائے گا۔ ’’ویلتھ پاکستان‘‘ کو دستیاب وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ سکیم نئے مجوزہ ’’سینٹر آف ایکسی لینس اِن آرٹیفیشل انٹیلی جنس‘‘ کے ذریعے چلائی جائے گی جسے تحقیق اور صنعتی اطلاق کے درمیان خلا ء کو پر کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔دستاویزات کے مطابق ہر سال کم از کم 400 اے آئی منصوبوں کو، جو اکیڈیمیا اور نجی شعبے میں ہوں گے، فنڈ فراہم کیا جائے گا اور ان منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی جو سماجی و اقتصادی چیلنجز اور ان کلیدی شعبوں سے متعلق ہوں گے جو قومی اے آئی پالیسی کے تحت شناخت کئے گئے ہیں۔

مالی معاونت کا یہ پیکیج صرف رقوم تک محدود نہیں ہوگا۔ دس لاکھ روپے تک کی مالی اعانت کے ساتھ منتخب منصوبوں کو رہنمائی، انکیوبیشن کے مواقع اور ریگولیٹری معاونت بھی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ بین الاقوامی معیارات کے مطابق رہ سکیں۔یہ سینٹر مزید ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا جو جدت کاروں کو ممکنہ سرمایہ کاروں سے جوڑے گا تاکہ پروٹوٹائپس کو قابلِ عمل تجارتی مصنوعات میں بدلنے کے امکانات بڑھ سکیں۔

- Advertisement -

پالیسی کے تحت ہر سال کم از کم 200 تحقیقی منصوبوں خاص طور پر اکیڈمک تھیسس اور اے آئی کے تحقیقی کام کیلئے بھی دو لاکھ روپے تک مختص کئے گئے ہیں۔ ان منصوبوں کے نتائج کو تسلیم شدہ بین الاقوامی جرائد اور پلیٹ فارمز پر شائع کرنا لازمی ہوگا تاکہ پاکستان کی موجودگی عالمی اے آئی ایکو سسٹم میں قائم کی جا سکے۔شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے ایک مانیٹرنگ اور ایویلیوایشن فریم ورک تیار کیا گیا ہے جو فنڈ حاصل کرنے والے منصوبوں کے نتائج کا جائزہ لے گا اور ان کی تجارتی افادیت، سماجی اثرات اور اے آئی معیشت میں شراکت کو پرکھے گا۔

وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے ڈائریکٹر انٹرنیٹ گورننس ذاکر سید نے ’’ویلتھ پاکستان‘‘ کو بتایا کہ یہ اقدام درآمد شدہ ٹیکنالوجیز پر انحصار کم کرنے اور مقامی حلوں کو فروغ دینے کی ایک فیصلہ کن پیشرفت ہے۔انہوں نے کہا کہ اطلاقی تحقیق کو فروغ دے کر اور اکیڈمیا و نجی شعبے دونوں میں ٹیلنٹ کی پرورش کر کے حکومت کو اُمید ہے کہ 2035 تک پاکستان کو خطے میں اے آئی پر مبنی جدت کا مرکز بنایا جا سکے گا۔

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں