اسلام آباد۔10جون (اے پی پی):حکومت نے وعدوں کے مطابق آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین،پنشنرز اورتنخواہ دارطبقہ کوریلیف دینے کیلئے تنخواہوں اورپنشن میں اضافہ سمیت کئی اقدامات کئے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد جبکہ پنشن میں 7فیصداضافہ کردیاگیاہے،تنخواہ دارطبقہ کیلئے ٹیکسوں کی شرح میں بھی کمی کردی گئی ہے۔
وزیرخزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے منگل کوقومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران بتایا کہ تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس میں کمی کے ساتھ ساتھ حکومت نے اپنی مالی مشکلات کے باوجود سرکاری ملازمین کیلئے ریلیف اقدامات کا فیصلہ کیا ہے اوراس سلسلہ میں گریڈ ایک سے 22 کے تمام ملازمین کی تنخواہ میں 10 فیصد، ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز ہے، معذور ملازمین کیلئے خصوصی کنونس الائونس کو 4 ہزار سے بڑھا کر 6 ہزار ماہانہ کیا جا رہا ہے، آئین پاکستان میں مساوی حقوق سے متعلق دی گئی شق پر عملدرآمد کرتے ہوئے تنخواہوں میں موجود تفاوت کو ختم کیا جا رہا ہے اہل ملازمین کو 30 فیصد کی شرح سے ڈسپیرٹی ریڈکشن الائونس دینے کی تجویز ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں سکیورٹی کی صورتحال خطرات سے دوچار ہے اور مسلح افواج نے سرحدوں کے تحفظ کیلئے قابل تحسین خدمات انجام دی ہیں، ان خدمات کے اعتراف میں مسلح افواج کے افسران اور سولجرز/جے سی اوز کیلئے سپیشل ریلیف الائونس دینے کی تجویز ہے، یہ اخراجات دفاعی بجٹ سے پورے کئے جائیں گے۔و زیرخزانہ نے کہاکہ انکم ٹیکس میں سب سے پہلے ہم اس جگہ ریلیف دے رہے ہیں جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وزیر اعظم کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ تنخواہ دار طبقے پرٹیکسوں کے بوجھ کو کم سے کم کیا جائے۔
اس حوالے سے تنخواہ دار لوگوں کے لیے آمدنی کے تمام سلیبس میں انکم ٹیکس کی شرحوں میں نمایاں کمی کی تجویز ہے۔ یہ ریلیف نہ صرف ٹیکس کے ڈھانچے کو آسان بنائے گا بلکہ متوسط آمدنی والوں پر عائد ٹیکس کے بوجھ کو کم کرکے،افراط زر اور ٹیک ہوم تنخواہ کے درمیان توازن کو یقینی بنائے گا۔ چھ لاکھ روپے سے بارہ لاکھ روپے تک تنخواہ پانے والوں کے لئے ٹیکس کی شرح 5 فیصدسے کم کر کے صرف 2.5 فیصد کر دی گئی ہے۔
بارہ لاکھ آمدنی والے تنخواہ دار پر ٹیکس کی رقم کو 30,000 سے کم کر کے 6,000 کر دینے کی تجویز ہے جو لوگ 22 لاکھ روپے تک تنخواہ لیتے ہیں ان کے لئے کم سے کم ٹیکس کی شرح 15 فیصد کے بجائے 11 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
اسی طرح زیادہ تنخواہیں حاصل کرنے والوں کے لئے بھی ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز دی جارہی ہے۔ بائیس لاکھ روپے سے بتیس لاکھ روپے تک تنخواہ لینے والوں کے لئے ٹیکس کی شرح 25 فیصد سے کم کر کے 23 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ یہ اقدام ٹیکسوں کو منصفانہ بنانے اور ٹیکس ادا کرنے والے تنخواہ دار افراد پر بوجھ کو کم کرنے کے حکومتی عزم کا آئینہ دار ہے۔