اسلام آباد۔4جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ حکومت نے 9000 میگاواٹ کے مہنگے اور غیر ضروری منصوبوں کو ختم کیاجو بجلی کے نظام پر بوجھ بن رہے تھے، حکومت کسی بھی صارف یا کاروبار کو نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں رکھتی، تمام فیصلے ملکی مفاد اور توانائی کے نظام کی طویل مدتی پائیداری کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جا رہے …
حکومت نے 9000 میگاواٹ کے مہنگے اور غیر ضروری منصوبوں کو ختم کیا، تمام فیصلے ملکی مفاد اور توانائی کے نظام کی طویل مدتی پائیداری کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جا رہے ہیں، سردار اویس احمد خان لغاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔4جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ حکومت نے 9000 میگاواٹ کے مہنگے اور غیر ضروری منصوبوں کو ختم کیاجو بجلی کے نظام پر بوجھ بن رہے تھے، حکومت کسی بھی صارف یا کاروبار کو نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں رکھتی، تمام فیصلے ملکی مفاد اور توانائی کے نظام کی طویل مدتی پائیداری کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جا رہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) میں نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کے نظام میں منتقلی کے حوالے سے منعقدہ مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سولر انڈسٹری سے وابستہ ماہرین، متعلقہ سرکاری اداروں، صوبائی حکومتوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ حکومت نیٹ میٹرنگ کو ختم نہیں کر رہی، بلکہ اس کے موجودہ طریقہ کار کو ایک زیادہ مؤثر، شفاف اور پائیدار ماڈل میں تبدیل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اویس لغاری کا کہنا تھا کہ 2017-18 میں انہوں نے خود نیٹ میٹرنگ کو متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا اور اس وقت یہ نظام ابتدائی مرحلے میں تھا، اب جبکہ نیٹ میٹرنگ کا دائرہ وسیع ہو چکا ہے، اس کے گرڈ پر سنجیدہ اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جن کا بروقت تدارک ضروری ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کسی بھی صارف یا کاروبار کو نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں رکھتی بلکہ تمام فیصلے ملکی مفاد اور توانائی کے نظام کی طویل مدتی پائیداری کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جا رہے ہیں ، ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ نیٹ میٹرنگ والے صارفین ہمیں بجلی سب سے سستے بجلی کے ذرائع کے نرخوں پر فراہم کریں، اگر ہم یونٹس کی خریداری کا ذکر کرتے ہیں تو اس بارے بھی غور جاری ہے اور اس کو انرجی خریداری پرائس پر لانے کی بات ہو رہی ہے تاکہ نرخوں میں اتار چڑھائو کے ساتھ یہ نظام خود بخود ایڈجسٹ ہو، یہ تمام تجاویز زیر غور ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے پے بیک پیریڈ اگر تقریباً تین سال یا اس سے کم ہے، تو یہ کسی بھی سرمایہ کاری کے لیے موزوں مدت ہے۔
اگر ایک صارف 40 فیصد بجلی خود استعمال کر رہا ہے تو تین سال میں رقم کی واپسی ایک قابلِ قبول تجارتی ماڈل ہے۔ یہ اصلاحات حوصلہ شکنی نہیں، بلکہ ایک بہتر، متوازن اور پائیدار نظام کی طرف پیش قدمی ہے۔اجلاس کے دوران وفاقی وزیر توانائی نے ملک میں جاری توانائی اصلاحات کا جامع خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے 9000 میگاواٹ کے مہنگے اور غیر ضروری منصوبوں کو ختم کیا، جو بجلی کے نظام پر بوجھ بن رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کیپٹو پاور صارفین پر لیوی عائد کر کے انہیں گرڈ کی طرف واپس لایا گیا جس کے نتیجے میں بجلی کی طلب میں اضافہ ہوا۔
جون 2024 سے اب تک صنعت کو دی جانے والی کراس سبسڈی کا حجم 174 ارب روپے ہے، جس سے صنعتی نرخوں میں 31 فیصد تک کمی آئی اور صنعتی کھپت میں نمایاں اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں مختلف صارفین کے لیے 14 سے 18 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومتی اصلاحات عملی طور پر اثر دکھا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے بڑے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر دوبارہ بات چیت کی جس سے نرخوں میں واضح کمی آئی اور بجلی کے طویل مدتی منصوبے میں ایسے منصوبے شامل نہیں کیے گئے جن کی ضرورت نہ تھی۔وفاقی وزیر نے یہ بھی بتایا کہ حکومت کے پاس اس وقت 7000 میگاواٹ اضافی بجلی موجود ہے، جو بغیر کسی سبسڈی کے 7 سے 7.5 سینٹ میں صنعت اور زراعت کو دی جا سکتی ہے۔
ہم چھ ماہ سے اسکیم کی منظوری کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت کر رہے ہیں، حالانکہ ہم پر کوئی براہ راست مالی دبائو نہیں۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ بجلی کی سپلائی اور ڈیمانڈ کو توازن میں رکھا جائے تاکہ نظام مضبوط ہو اور صارفین کو فائدہ پہنچے۔اویس لغاری نے اس امر پر بھی زور دیا کہ گرڈ کی بہتری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انٹگریٹڈ گرڈ اور آف گرڈ دونوں کے لیے ہم جدید اور موثر حل لا رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تمام اصلاحات ایک مربوط حکمت عملی کے تحت کی جا رہی ہیں اور کوئی قدم عجلت میں یا عارضی بنیادوں پر نہیں اٹھایا جا رہا۔
یہ وقت ہے کہ ہم توانائی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کریں۔ شرکا کی پیش کردہ تجاویز پر مثبت پیش رفت ہو گی تاکہ یہ عمل زیادہ موثر، جامع اور سب کے مفاد میں ہو۔








