اسلام آباد۔31اگست (اے پی پی):حکومت نے اہم انفراسٹرکچر، حساس ڈیٹا اور ڈیجیٹل آپریشنز کو درپیش سائبر حملوں کی نگرانی اور ان کے فوری تدارک کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی تھریٹ ڈٹیکشن سسٹمز متعارف کرانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دستاویزات کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی جزو اے آئی پر مبنی سائبر سکیورٹی حل کی تیاری ہے جو اے آئی سسٹمز کے پورے لائف سائیکل میں مکمل تحفظ فراہم کریں گے۔ ان میں اے آئی انٹیگریٹڈ سکیورٹی گائیڈلائنز برائے ڈویلپمنٹ اور ڈپلائمنٹ، ریئل ٹائم تھریٹ ڈٹیکشن اور محفوظ تھریٹ انٹیلی جنس شیئرنگ کے لیے کولیبریٹو ڈیفنس میکنزم شامل ہیں۔مجوزہ سسٹمز جدید اے آئی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے بڑھتے ہوئے خطرات اور حملوں کا مقابلہ کریں گے۔
اے آئی پر مبنی سائبر سکیورٹی پروٹوکول سختی سے نافذ کیے جائیں گے جن میں ڈیٹا کے محفوظ ذخیرہ اور ترسیل، سینڈباکس ٹیسٹنگ اور اسٹیک ہولڈرز کے فیڈ بیک شامل ہو ں گے۔ یہ اقدامات کمزوریوں کی روک تھام، خاتمے اور حل کے لیے ترتیب دیئے گئے ہیں تاکہ انسانی، ماحولیاتی اور ایکو سسٹم کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ دستاویزات کے مطابق شفافیت اور انسانی نگرانی کو بھی خاص اہمیت دی گئی ہے، بالخصوص ہائی رسک اے آئی آپریشنز میں انسانی نگرانی کے میکنزم لازمی ہوں گے اور سرکاری شعبے کے اے آئی سسٹمز کو ایک عوامی رجسٹر میں درج کیا جائے گا۔
ہائی امپیکٹ اے آئی سسٹمز کی لائف سائیکل ایویلیوایشنز اور امپیکٹ اسیسمنٹس کے ذریعے بدلتے ہوئے معیارات کے ساتھ مطابقت کی نگرانی کی جائے گی۔ باقاعدہ آڈٹ، قانونی فریم ورکس اور عدم تعمیل پر جرمانوں کے ذریعے اخلاقی اور سکیورٹی معیارات کو یقینی بنایا جائے گاجبکہ تھرڈ پارٹی آڈیٹرز اے آئی کے فیصلوں اور الگورتھمک احتساب کا جائزہ لیں گے۔دستاویزات کے مطابق نیشنل ڈیٹا سکیورٹی پالیسی متعین کرے گی کہ سکیورٹی لیولز، آڈٹنگ معیارات اور تربیتی عمل کیا ہوگا۔ اس کے ساتھ ایک ڈیفنس اِن ڈیپتھ اسٹریٹجی بھی متعارف کرائی جائے گی جس میں پرائیمری میٹر، نیٹ ورک، ہوسٹ، ایپلی کیشن اور ڈیٹا لیئرز شامل ہوں گے۔
نیشنل اتھارٹی ٹرسٹ اینڈ آئیڈینٹی مینجمنٹ پالیسی کے تحت ڈیٹا سروس تک رسائی کے لیے لازمی توثیق نافذ کی جائے گی جس سے ڈیجیٹل سرگرمیوں میں احتساب مضبوط ہوگا۔ شناخت اور رسائی مینجمنٹ پروٹوکولز، بشمول ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن اور رول بیسڈ کنٹرولز، بدلتے خطرات سے ہم آہنگ کیے جائیں گے۔مزید برآں، دستاویزات میں ایک اوپن سورس اے آئی گورننس فریم ورک کا ذکر ہے جو اوپن سورس اے آئی کے محفوظ استعمال کو منظم کرے گا تاکہ ڈیٹا سکیورٹی، کنٹرولڈ شیئرنگ اور کولیبریٹو انوویشن کو یقینی بنایا جا سکے۔اے آئی سسٹمز کے لیے خصوصی پروٹوکولز تیار کیے جائیں گے جو منفرد کمزوریوں سے تحفظ فراہم کریں گے، جبکہ اے آئی پاورڈ سمیولیشنز کے ذریعے نئے خطرات کی پیش بینی کی جائے گی۔
جنریٹو اے آئی سے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اے آئی ڈائریکٹوریٹ اور سینٹر آف ایکسی لینس اِن اے آئی (CoE-AI) کو ذمہ داری دی گئی ہے۔ ریگولیٹری گائیڈلائنز کے ذریعے جھوٹی خبروں، پرائیویسی کی خلاف ورزیوں اور بدنیتی پر مبنی معلومات کے پھیلاؤ کو روکا جائے گا جبکہ مقامی تحقیق، اسٹارٹ اپس کی شمولیت اور اکیڈیمیا میں ڈیٹا کے اخلاقی استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔
اس کے ساتھ ہی تخلیق کاروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے انٹیلیکچوئل پراپرٹی قوانین کی پاسداری اور مواد کی تصدیقی میکنزم کو بھی لازمی قرار دیا جائے گا۔ دستاویز چ میں ریگولیٹری سینڈباکسز کے قیام کا ذکر ہے جو تیز رفتار قانونی ہم آہنگی اور اخلاقی جانچ کے لیے مددگار ہوں گے۔ توقع ہے کہ 2027 تک کم از کم 20 ادارے ان سینڈباکسز سے فائدہ اٹھائیں گے، جس سے ملک بھر میں اے آئی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دار اور جامع استعمال کو فروغ ملے گا۔