حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے لاہور کے قریب 9.8 ارب روپے کی لاگت سے خصوصی فٹ ویئر انڈسٹریل ہب قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، مجوزہ منصوبے کا سپانسر وزارتِ صنعت و پیداوار ہوگی
حکومت کا غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے 9.8 ارب روپے کا فٹ ویئر انڈسٹریل ہب قائم کرنے کا منصوبہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔6جولائی (اے پی پی):حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے لاہور کے قریب 9.8 ارب روپے کی لاگت سے خصوصی فٹ ویئر انڈسٹریل ہب قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، مجوزہ منصوبے کا سپانسر وزارتِ صنعت و پیداوار ہوگی جبکہ سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) اس کی مرکزی عملدرآمدی ایجنسی کے طور پر کام کرے گی، بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی) اور صوبائی محکمہ جاتِ صنعت اس منصوبے کے اہم شراکت دار ہوں گے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق پاکستان کا فٹ ویئر شعبہ تکنیکی صلاحیت کا حامل ہے تاہم اس کی پیداوار زیادہ تر غیر رسمی اور نیم منظم یونٹس تک محدود ہے جن کی بڑی تعداد لاہور کے گردونواح میں قائم ہے۔خصوصی فٹ ویئر انڈسٹریل زون نہ ہونے کے باعث پیداواری سرگرمیاں منتشر ہیں، لاجسٹکس کے اخراجات زیادہ ہیں، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں رکاوٹیں موجود ہیں جبکہ بڑے پیمانے پر ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی صلاحیت بھی محدود ہے۔
مجوزہ ہب کا مقصد ان ساختی مسائل کا حل پیش کرنا ہے جہاں سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی، معیاری تقاضوں کی تکمیل سے متعلق خدمات اور مشترکہ بنیادی ڈھانچے کو ایک ہی جگہ فراہم کیا جائے گا۔اس منصوبے کے تحت لاہور کے فٹ ویئر کلسٹر کے قریب خصوصی صنعتی ہب قائم کیا جائے گا جو ٹیکنالوجی کے فروغ، پیداواری استعداد میں اضافے اور نجی سرمایہ کاری کے لئے بین الاقوامی معیار کے مطابق پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔منصوبے کے لئے مجموعی طور پر 9.8 ارب روپے کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) فنڈز درکار ہوں گے جبکہ اس میں کسی قسم کا غیر ملکی زرمبادلہ شامل نہیں ہوگا۔مالی سال 27-2026 میں 280 ملین روپے، مالی سال 28-2027 میں 5.32 ارب روپے، مالی سال 29-2028 میں 2.8 ارب روپے اور مالی سال 30-2029 میں 1.4 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے،منصوبہ پانچ سال میں مکمل کئے جانے کی توقع ہے۔
کام کے دائرہ کار میں فزیبلٹی سٹڈی، مقام کا انتخاب، ماسٹر پلان کی تیاری، اندرونی سڑکوں کی تعمیر، باؤنڈری وال، بجلی کی تقسیم کا نظام، گیس کی فراہمی، پانی اور نکاسیٔ آب کی سہولیات، ڈرینیج سسٹم، مشترکہ یوٹیلٹی عمارتیں، گرین ایریاز، صنعتی فضلے کے انتظام کا نظام اور مشترکہ سہولت مراکز کا قیام شامل ہے۔منصوبے کا ایک اہم حصہ ٹیکنالوجی اپنانے کے پلیٹ فارم کا قیام ہوگا جس کے تحت جدید کٹنگ لائنز، انجکشن مولڈنگ مشینری اور خودکار سلائی مشینوں سے لیس ٹیکنالوجی ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کیا جائے گا۔ اس سے ہب میں قائم صنعتوں کو جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی میں مدد ملے گی اور مقامی صنعت کار زیادہ ویلیو ایڈڈ اور برآمدات پر مبنی مصنوعات تیار کرنے کے قابل ہوں گے۔
منصوبے میں مشترکہ ٹیسٹنگ اور کوالٹی کنٹرول لیبارٹریاں، کیمیکل اور خام مال کے ذخیرہ کرنے کی سہولیات، حفاظتی انتظامات، خریداروں سے ملاقات کے لئے مخصوص مقامات، شو رومز اور دیگر مشترکہ خدمات بھی فراہم کی جائیں گی۔عملدرآمد کے انتظامات کے تحت سمیڈا منصوبے کے ڈیزائن، خریداری کے عمل اور تکنیکی رابطہ کاری کی ذمہ دار ہوگی جبکہ بورڈ آف انویسٹمنٹ سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے، پلاٹس کی الاٹمنٹ پالیسی، مراعاتی پیکجز، رجسٹریشن اور ہب میں قائم صنعتوں کے لئے ون ونڈو سہولت فراہم کرے گا۔
صوبائی محکمہ جاتِ صنعت زمین کے حصول، صوبائی منظوریوں اور مقامی حکومت سے رابطہ کاری کے امور انجام دیں گے۔وزارتِ صنعت و پیداوار، سمیڈا، بورڈ آف انویسٹمنٹ اور صوبائی حکومت پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی سٹیئرنگ کمیٹی منصوبے کی نگرانی اور انتظامی رہنمائی فراہم کرے گی۔منصوبے کے متوقع نتائج میں مکمل طور پر فعال فٹ ویئر انڈسٹریل ہب کا قیام، منظم صنعتی پلاٹس، مشترکہ سہولیات کی فراہمی، نجی سرمایہ کاری میں اضافہ، پیداواری صلاحیت میں توسیع، جدید ٹیکنالوجی اور معیار سے متعلق خدمات تک بہتر رسائی، اور فٹ ویئر برآمدات میں اضافے کے اہداف کے حصول میں نمایاں پیشرفت شامل ہے۔







