خاتون اول ثمینہ عارف علوی کا خدیجة الکبریٰ ایوارڈز کی تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 4 نومبر (اے پی پی) خاتون اول ثمینہ عارف علوی نے اراکین پارلیمنٹ پر زور دیا ہے کہ معذور افراد کے لئے قانون سازی کی رفتار کو تیز کریں تاکہ ایسے افراد کو زندگی کے تمام شعبوں میں مرکزی دھارے میں لایا جاسکے۔ دوسری سالانہ خدیجة الکبریٰ ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ معاشرے کی اہم ذمہ داری ہے کہ معذور …

اسلام آباد ۔ 4 نومبر (اے پی پی) خاتون اول ثمینہ عارف علوی نے اراکین پارلیمنٹ پر زور دیا ہے کہ معذور افراد کے لئے قانون سازی کی رفتار کو تیز کریں تاکہ ایسے افراد کو زندگی کے تمام شعبوں میں مرکزی دھارے میں لایا جاسکے۔ دوسری سالانہ خدیجة الکبریٰ ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ معاشرے کی اہم ذمہ داری ہے کہ معذور افراد کے لئے سازگار ماحول فراہم کرے تاکہ انہیں معاشرے کا مفید شہری بنایا جاسکے۔ ایوارڈز کی تقریب کا اہتمام خواتین پارلیمانی کاکس ‘ سپیشل ٹیلنٹ ایکسچینج پروگرام (سٹیپ)‘ یو این ویمن اور امریکی سفارتخانہ کی طرف سے 16 معذور خواتین جو معذوری کے باوجود اپنے حقوق کے لئے رول ماڈل ثابت ہوئیں اور معذور خواتین کی بااختیاری کے چیمپئن 20 مرد و خواتین کے اعزاز میں کیا گیا تھا۔ بیگم ثمینہ علوی نے کہا کہ حکومت نجی شعبہ اور سول سوسائٹی کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ معذور افراد کو تعلیم‘ بنیادی صحت اور روزگار کے مواقعوں تک رسائی میں سہولت فراہم کریں۔ انہوں نے معذور بچوں کے لئے خصوصی اداروں کے بجائے عام سکولوں میں گنجائش پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اپنی ذاتی حیثیت سے اپنے سماجی کام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ معذور افراد کے لئے کام کرنے والے ادارے این او ڈبلیو پی ڈی پی کی کراچی شاخ کے ساتھ کام کر چکی ہیں۔ انہوں نے اس اقدام کو ملک کے دیگر علاقوں میں وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ویمن پارلیمانی کاکس کی سیکرٹری اور رکن قومی اسمبلی منزہ حسن نے کہا کہ مختلف چیلنجوں کے باوجود ملک میں معذوری کا شکار خواتین کی بڑی تعداد نے خود کو دوسروں کے لئے مثال بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان خواتین کے پاکستان کی ترقی کے لئے کردار کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے یہ تقریب ایک اہم قدم ہے۔ امریکی سفارتخانہ کے ناظم الامور جان ہوور نے کہا کہ امریکہ معذور افراد کے لئے رکاوٹیں دور کرنے کے لئے پرعزم ہے اور ایک ایسی دنیا دیکھنا چاہتے ہیں جہاں معذوری کا شکار افراد عظمت و وقار کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ہدف کے لئے امریکہ پاکستان سمیت دنیا بھر کی سول سوسائٹی کے شراکت داروں کی معاونت کرتا ہے تاکہ ایسے افراد کو مساوی اور تمام حقوق دلائے جاسکیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی اے کی کنٹری ڈائریکٹر لینا موسیٰ نے کہا کہ معذور افراد کے ساتھ روزانہ احتصال ہوتا ہے اور ان کی بااختیار پر زور دیتے ہوئے پائیدار ترقی کے حصول کو ناگزیر قرار دیا۔ نیشنل فورم برائے معذور خواتین کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ابیحہ اکرم نے کہا کہ پاکستان کی مجموعی آبادی کا دس سے پندرہ فیصد افراد معذوری کا شکار ہیں جس کا نصف خواتین پر مشتمل ہے۔ تقریب کے شرکاءنے معذوری کا شکار خواتین کے لئے چار نومبر کو بطور قومی دن منانے کی قرارداد بھی منظور کی۔