اسلام آباد۔27اگست (اے پی پی):ایس بی پی -بی ایس سی اور یو این ویمن پاکستان نے مالی شمولیت، مالی خواندگی اور قرضوں تک رسائی بڑھانے کی غرض سے طویل مدتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر دیئے جس میں پاکستان کے اندر صنفی مساوات کو فروغ دینے اور خواتین کو بااختیار بنانے پر بھرپور توجہ دی گئی ہے۔سٹیٹ بینک کی جانب سے بدھ کویہاں جاری اعلامیہ کے مطابق ایس بی پی -بی ایس سی کے منیجنگ ڈائریکٹر معراج محمود اور یو این ویمن پاکستان کے ملک گیر نمائندے جمشید قاضی کی موجودگی میں دستخط کی تقریب کراچی میں منعقد ہوئی۔
اس شراکت داری سے دونوں اداروں کے اس مشترکہ عزم کا اعادہ ہوتا ہے کہ معاشی میدان میں خواتین کی شرکت کے لیے سازگار ماحول بالخصوص مالی وسائل اور معلومات تک رسائی میں بہتری لائی جائے گی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمشید قاضی نے صنفی مساوات پروان چڑھانے میں مالی شمولیتی نظام کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بات اجاگر کی کہ پاکستان میں خواتین کی صلاحیتوں کو سامنے لانے میں مالی شمولیت کا کلیدی کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یو این ویمن کا ایس بی پی -بی ایس سی کے ساتھ اس شراکت داری کا مقصد مالی خدمات تک خواتین کی رسائی، مضبوطی پیدا کرنے اور پائیدار معاشی ترقی میں حصہ ڈالنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
معراج محمود نے مالی شعبے میں خواتین کی شرکت کو فروغ دینے کے سٹیٹ بینک کے عزم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یو این ویمن کے ساتھ سٹیٹ بینک کی یہ شراکت داری مالی خواندگی بڑھانے اور مالی خدمات سے نیم محروم طبقوں بالخصوص خواتین کی قرضوں تک رسائی کے سلسلے میں مرکزی بینک کے نصب العین کی عکاس ہے۔ایس بی پی-بینکنگ سروس کارپوریشن یو این ویمن کے ساتھ مل کر ساختی رکاوٹوں کو دور کرنے اور شمولیتی معاشی ترقی کے لیے اختراعی طریقوں کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔
مفاہمت کی یادداشت میں تعاون کے اہم شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے جن میں مشترکہ سیمینارز اور کانفرنسوں کا انعقاد، استعداد کاری اور آگاہی کے پروگرام اور خواتین کی مالی شمولیت میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کے لیے مشترکہ تحقیق جیسے امور شامل ہیں۔ اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ ڈیجیٹل مالی خدمات کے استعمال کو فروغ دیا جائے اور قرضوں تک کم رسائی رکھنے والے علاقوں اور سماجی طبقوں کے لیے مالی خدمات کو بڑھایا جائے تاکہ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے پائیدار مواقع پیدا کیے جاسکیں۔
یہ شراکت داری خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے یو این ویمن کی جاری کوششوں کا حصہ ہے جو بیجنگ+30 کے جائزے کے عمل اور صنفی مساوات کے لیے پاکستان کے قومی عزم سے ہم آہنگ ہے۔ اگرچہ مفاہمت کی یادداشت سے قانونی پابندی لاگو نہیں ہوتی، تاہم یہ شراکت داری کے لیے ایک مضبوط فریم ورک فراہم کرتی ہیں جس سے دونوں اداروں کو یہ موقع ملے گا کہ وہ اپنی مہارت، نیٹ ورکس اور وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے بامعنی اور دیرپا اثرات مرتب کریں۔