وفاقی آئینی عدالت نے خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ وراثت میں خواتین کا حق ریاست کا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ حق ہے جسے کسی بھی صورت سلب نہیں کیا جا سکتا۔ رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق عدالت
خواتین کو وراثت سے محروم کرنا قانون اور اسلامی احکامات کی خلاف ورزی ہے، وفاقی آئینی عدالت
اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ وراثت میں خواتین کا حق ریاست کا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ حق ہے جسے کسی بھی صورت سلب نہیں کیا جا سکتا۔ رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ قرآن پاک میں خواتین کے وراثتی حقوق کو واضح طور پر تسلیم اور محفوظ بنایا گیا ہے، لہٰذا کوئی بھی علاقائی رسم، خاندانی روایت یا سماجی رواج خواتین کو ان کے قانونی اور شرعی حقِ وراثت سے محروم نہیں کر سکتا۔فیصلہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی خاتون بی بی آمنہ کے مقدمے میں جاری کیا گیا جس میں انہوں نے اپنے بھائیوں کی جانب سے جائیداد میں مکمل حصہ نہ دیئے جانے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔وفاقی آئینی عدالت نے مشاہدہ کیا کہ بدقسمتی سے معاشرے میں خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کا رجحان موجود ہے اور اکثر اوقات یہ محرومی سماجی دباؤ، دھوکہ دہی اور فراڈ کے ذریعے عمل میں لائی جاتی ہے۔
عدالت نے زور دیا کہ خواتین کی وراثت سے متعلق مقدمات میں عدالتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لیں تاکہ کسی خاتون کے قانونی حق کی حق تلفی نہ ہو۔عدالت نے قرار دیا کہ خواتین کو وراثت کا حق نہ دینا نہ صرف ملکی قانون بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی بھی خلاف ورزی ہے۔ اس بنیاد پر وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست گزار خاتون کے والدین کی تمام جائیدادوں کو حصص کے تعین کے لئے متعلقہ سول عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا۔عدالت نے ہدایت کی کہ سول کورٹ آئین، قانون اور اسلامی احکامات کے مطابق تمام جائیدادوں میں ورثاء کے حصص کا تعین کرے اور درخواست گزار خاتون کے وراثتی حقوق کو یقینی بنایا جائے۔









