فیصل آباد۔ 10 اکتوبر (اے پی پی):زرعی ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان میں خوردنی تیل کی کھپت28ملین ٹن سے زیادہ لیکن اس کی پیداوار7ملین ٹن کے قریب ہے اسلئے مذکورہ کمی کو پورا کرنے کیلئے ہر سال350ارب روپے سے زائد کثیر زرمبادلہ خرچ کرکے 21ملین ٹن خوردنی تیل درآمد کرنا پڑ رہا ہے جبکہ آبادی میں مسلسل اضافہ سے نہ صرف خوردنی تیل کی طلب بڑھ رہی ہے بلکہ …
خوردنی تیل کی پیداوار میں اضافہ ضروری ہے،ماہرین تیلدار اجناس

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 10 اکتوبر (اے پی پی):زرعی ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان میں خوردنی تیل کی کھپت28ملین ٹن سے زیادہ لیکن اس کی پیداوار7ملین ٹن کے قریب ہے اسلئے مذکورہ کمی کو پورا کرنے کیلئے ہر سال350ارب روپے سے زائد کثیر زرمبادلہ خرچ کرکے 21ملین ٹن خوردنی تیل درآمد کرنا پڑ رہا ہے جبکہ آبادی میں مسلسل اضافہ سے نہ صرف خوردنی تیل کی طلب بڑھ رہی ہے بلکہ اس کی قیمتوں میں بھی دن بدن اضافہ ہورہا ہے لہٰذا خوردنی تیل کی کمی کو پورا کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ رقبہ پر اس کی کاشت یقینی بنانا ہو گی۔
تیلدار اجناس کے ماہرین زراعت نے بتایا کہ پاکستان میں کیڑوں اور بیماریوں کے حملہ اور موسمی تغیرات کی وجہ سے تیلدار اجناس کی پیداوار کم ہے لیکن پیداواری ٹیکنالوجی اور زرعی مداخل کے درست استعمال سے ان کی پیداوار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ تیلدار اجناس کی پیداوار میں حائل رکاوٹوں خصوصاً بیماریوں، کیڑوں کے حملہ اور پیداوار میں کمی کی وجوہات کا جائزہ لینے کیلئے کئے جانے والے تجربات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکہ میں سویابین کی فصل سب سے زیادہ کاشت کی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں سویابین کی کاشت دیگر تیلدار فصلات کی نسبت بہت کم رقبے پر کی جاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ انڈیا سرسوں کی کاشت اور پیداوار کے لحاظ سے ہم سے بہت آگے ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تیلدار اجناس کے زیر کاشت رقبہ میں اضافہ کے ساتھ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ بھی ضروری ہے۔انہوں نے زرعی سائنسدانوں سے اپیل کی کہ وہ سرسوں اور کینولہ کی کم دورانیہ کی حامل اور بیماریوں وضرررساں کیڑوں کے خلاف قوت مدافعت رکھنے اور زیادہ پیداوار دینے والی اقسام تیار کریں۔








