پشاور۔ 25 اگست (اے پی پی):خیبرپختونخوااسمبلی نے مچھلیوں کی خطرناک طریقوں سے نسل کشی کامعاملہ اسٹینڈنگ کمیٹی کے سپرد کردیا ۔صوبائی وزیرقانون نے اوورسیزکلیئرنس سرٹیفکیٹ میں تاریخ کے اجرا اورایکسپائری ڈیٹ سے متعلق پیداہونیوالی مشکلات کے ازالے کی یقین دہانی کرادی۔پیر کے روز اسمبلی اجلاس کے دوران پی پی کے پارلیمانی لیڈراحمدکنڈی نے توجہ دلاؤنوٹس پیش کرتے ہوئے کہاکہ خیبرپختونخوامیں آبی حیات خصوصامچھلیوں کی مختلف خطرناک طریقوں سے نسل کشی ہورہی ہے جن میں برقی آلات،بارودسمیت دیگر خطرناک کیمیکل شامل ہیں جس کی وجہ سے ایک طرف قدرتی حسن اور دوسری جانب مچھلیوں کی نسل مسلسل تباہ ہورہی ہیں ۔پارلیمانی سیکرٹری عدیل اقبال نے جواب دیاکہ جھیل ودریاؤں میں باقاعدہ لائسنس کے بعدشکارکی اجازت ہے تاہم غیرقانونی شکارپر92لاکھ اب تک جرمانہ وصول ہوچکاہے
اسکے علاوہ اس مافیا کیخلاف ایف آئی آردرج ہوچکی ہیں اس عمل پر پچاس ہزار جرمانہ اور دوسال قید بھی ہے ،محرک رکن نے تجویز دی کہ سزائیں بہت کم ہیں، اس معاملے کو قائمہ کمیٹی بھیج دیاجائے تاکہ مثبت رائے دی جاسکے ۔پارلیمانی سیکرٹری کی طرف سے تائید کے بعد ڈپٹی سپیکرنے توجہ دلاؤنوٹس کو اسٹینڈنگ کےسپردکردیا۔جے یوآئی رکن ریحانہ اسماعیل نے توجہ دلاؤنوٹس پیش کرتے ہوئے کہاکہ محکمہ پولیس بیرون ملک حصول تعلیم کیلئے جانے والوں کیلئے اوورسیز کلیئرنس سرٹیفکیٹ جاری کرتاہے جس پر فرام ڈیٹ اورٹوڈیٹ درج ہوتاہے جہاں پر ٹوڈیٹ میں محکمہ ایک فائنل تاریخ درج کردیتا ہے جوکہ بیرون ملک وہاں کی اتھارٹیز قبول نہیں کرتی جس سے ہمارے صوبے کے طلبہ بری طرح متاثرہورہے ہیں لہذا پنجاب کی طرزپر فراہم اور ٹومیں فرام برتھ اورٹوڈیٹ کردیاجائے ۔وزیرقانون آفتاب عالم نے موقف کی تائید کی اور کہاکہ اگرایک شخص کیخلاف ایف آئی آرہوتاہے
اورکیس زیرالتوا ہو توایسی صورتحال میں سرٹیفکیٹ میں فرام اورٹوڈیٹ لکھنے پرعام لوگوں کو مشکلات سامنے آتی ہیں ہوم ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے پولیس کو لیٹرجاچکاہے لیکن فی الحال جواب نہیں آیا ہے محرک رکن پنجاب کالیٹرمیرے ساتھ شیئرکرلیں اس بابت آئی جی بات کرلینگے۔