خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اور محصولات کےدوسرےاجلاس کا انعقاد

خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اور محصولات کا دوسرا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں چیئرمین خصوصی کمیٹی اور رکن صوبائی اسمبلی عبدالکریم تورڈھیر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ تر جمان محکمہ اطلاعات خیبرپختونخوا کے مطابق اجلاس میں وزیر قانون آفتاب عالم، وزیر محنت فیصل خان ترکئی، اراکین صوبائی اسمبلی حمید الرحمن، ارباب محمد عثمان، رنگیز خان اور عبدالمنعم سمیت محکمہ ایکسائز

پشاور۔ 10 جون (اے پی پی):خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اور محصولات کا دوسرا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں چیئرمین خصوصی کمیٹی اور رکن صوبائی اسمبلی عبدالکریم تورڈھیر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ تر جمان محکمہ اطلاعات خیبرپختونخوا کے مطابق اجلاس میں وزیر قانون آفتاب عالم، وزیر محنت فیصل خان ترکئی، اراکین صوبائی اسمبلی حمید الرحمن، ارباب محمد عثمان، رنگیز خان اور عبدالمنعم سمیت محکمہ ایکسائز،محکمہ ریوینیو محکمہ خزانہ، محکمہء زراعت، محکمہ قانون،محکمہ ماحولیات پاکستان ٹوبیکو بورڈ، کسان بورڈ، اور صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں توجہ دلاؤ نوٹس نمبر 764 پر تفصیلی غور کیا گیا، جو چیئرمین خصوصی کمیٹی عبدالکریم تورڈھیر کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔ نوٹس میں نشاندہی کی گئی کہ خیبر پختونخوا ملک میں تمباکو کی پیداوار کا سب سے بڑا مرکز ہے، تاہم صوبے کے کاشتکار اور عوام اس صنعت سے متناسب معاشی فوائد حاصل نہیں کر پا رہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ تمباکو خریدنے والی کمپنیوں نے سگریٹ سازی کے بیشتر کارخانے دیگر صوبوں میں قائم کر رکھے ہیں، جس کے باعث صوبے میں روزگار کے مواقع محدود اور مقامی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔سیکرٹری زراعت نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ دو برس سے پاکستان ٹوبیکو بورڈ غیر فعال رہا اور شعبہ بورڈ کے بغیر چلایا جاتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ تمباکو کی امدادی قیمت کا تعین وفاقی حکومت کرتی ہے، جبکہ صوبے کے مختلف اضلاع میں قائم تحقیقی مراکز پیداوار اور معیار میں بہتری کے لیے جدید تحقیق پر کام کر رہے ہیں۔ چیئرمین پاکستان ٹوبیکو بورڈ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ تمباکو کے تمام امور 1968ء کے آرڈیننس کے تحت چلائے جا رہے ہیں

اور قیمتوں کا تعین پیداواری لاگت کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب بھی اب ملکی تمباکو پیداوار میں نمایاں حصہ ڈال رہا ہے۔اجلاس کے دوران کسان بورڈ کے نمائندوں نے تمباکو خریدنے والی کمپنیوں کی جانب سے کاشتکاروں کے واجبات کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر چیئرمین پاکستان ٹوبیکو بورڈ نے یقین دہانی کرائی کہ گزشتہ سال کے تمام بقایاجات ایک ہفتے کے اندر متعلقہ کمپنیوں کی جانب سے کاشتکاروں کو ادا کر دئیے جائیں گے۔ وزیر محنت فیصل خان ترکئی نے تمباکو کے شعبے کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے شفافیت، مؤثر نگرانی، کاشتکاروں کے حقوق کے تحفظ اور برآمدات میں اضافے کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ چیئرمین خصوصی کمیٹی عبدالکریم تورڈھیر نے پاکستان ٹوبیکو بورڈ کو ہدایت کی کہ تمباکو کی قیمتوں کا تعین منصفانہ بنیادوں پر کیا جائے تاکہ کاشتکاروں کو مالی نقصان سے بچایا جا سکے۔ کمیٹی نے تمباکو کے شعبے کو درپیش مسائل کے حل اور منصفانہ ٹیکس نظام کے لیے سفارشات مرتب کرنے کی غرض سے ایک ذیلی قانون سازی کمیٹی بھی تشکیل دی، جو محکمہ زراعت، محکمہ ایکسائز محکمہ خزانہ اور محکمہ قانون کے نمائندوں پر مشتمل ہوگی اور 15 روز کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ اجلاس کے اختتام پر چیئرمین کمیٹی نے صوبائی سطح پر ایک مشاورتی کونسل کے قیام پر بھی زور دیا جس میں پاکستان ٹوبیکو بورڈ اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں تاکہ تمباکو کے شعبے سے متعلق مسائل کے حل اور مؤثر پالیسی سازی کے لیے سال میں کم از کم دو اجلاس منعقد کیا کریں۔

 

مزید خبریں