بلوچستان ہائیکورٹ، زرغون روڈ اور جوائنٹ روڈ کوئٹہ پر ہر قسم کی نئی تعمیرات اور تعمیراتی سرگرمیاں نہ کرنے کا حکم

بلوچستان ہائیکورٹ، زرغون روڈ اور جوائنٹ روڈ کوئٹہ پر ہر قسم کی نئی تعمیرات اور تعمیراتی سرگرمیاں نہ کرنے کا حکم

کوئٹہ۔ 10 جون (اے پی پی):بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے آئینی درخواست نمبر 542/2026 اور اس سے منسلک آئینی درخواست نمبر 824/2016 کی سماعت کرتے ہوئے زرغون روڈ اور جوائنٹ روڈ کوئٹہ پر جاری تعمیراتی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم احکامات جاری کر دیے۔عدالت کو بتایا گیا کہ ایڈووکیٹ جنرل آفس میں 25 مئی 2026 کو ہونے والے اجلاس کے منٹس اور پاکستان ریلوے کی جانب سے تیار کردہ نقشہ ریکارڈ پر پیش کیا گیا ہے۔

دوسری جانب ریڈامکو (REDAMCO) کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کی سابقہ اجازت کے باوجود ضلعی انتظامیہ فلنگ اسٹیشن کی تعمیر کے سلسلے میں ضروری تعاون فراہم نہیں کر رہی، جس کے باعث منصوبے کی تکمیل میں تاخیر ہو رہی ہے۔سماعت کے دوران بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو (BTEB) کی رپورٹ بھی زیر غور آئی، جس میں منصوبے سے متعلق بعض بے ضابطگیوں اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے مختلف سفارشات کی نشاندہی کی گئی تھی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ اس معاملے پر متعلقہ حکام اور BTEB کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا جائے اور کسی بھی قسم کی اجازت حتمی ٹریفک سفارشات سے مشروط ہوگی۔

عدالت نے جوائنٹ روڈ پر موجود دکانوں کی اصل تعداد اور قانونی حیثیت کے تعین کے لیے کمشنر کوئٹہ ڈویژن کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی۔ کمیٹی میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ، میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کے متعلقہ افسران، تحصیلدار سٹی/صدر، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، پاکستان ریلوے کے نمائندے، درخواست گزاروں اور دیگر متعلقہ فریقین کے نمائندگان شامل ہوں گے۔عدالت نے کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ میٹروپولیٹن اور تحصیل ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لے کر جوائنٹ روڈ کی توسیع سے قبل موجود دکانوں کی حقیقی تعداد اور دیگر متعلقہ حقائق کا تعین کرے اور اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔

بلوچستان ہائی کورٹ نے واضح طور پر حکم دیا ہے کہ کمیٹی کی رپورٹ اور عدالت کے آئندہ احکامات تک زرغون روڈ اور جوائنٹ روڈ کوئٹہ پر ہر قسم کی نئی تعمیرات اور تعمیراتی سرگرمیاں مکمل طور پر ممنوع رہیں گی۔عدالت نے اپنے حکم کی نقول متعلقہ وفاقی و صوبائی حکام کو ارسال کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔یہ مقدمہ جوائنٹ روڈ اور زرغون روڈ پر تعمیرات، ٹریفک کے مسائل، سرکاری اراضی کے استعمال اور عوامی مفاد سے متعلق اہم قانونی و انتظامی معاملات سے تعلق رکھتا ہے، جس پر عدالت نے آئندہ سماعت تک سخت نگرانی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔