محرم الحرام میں سکیورٹی اقدامات کے حوالے سے سی پی او فیصل آباد نےصدر ڈویژن کا تفصیلی وزٹ اور انتظامات کا جائزہ لیا۔ ترجمان پولیس طارق جٹ نے بتایا کہ محرم الحرام سکیورٹی اقدامات کے حوالے سے سی پی او تنویر حسین نے صدر ڈویژن کا تفصیلی وزٹ کیا۔ انہوں نے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا
محرم الحرام سکیورٹی اقدامات، سی پی او فیصل آباد کاصدر ڈویژن کا تفصیلی وزٹ، انتظامات کا جائزہ لیا

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 10 جون (اے پی پی):محرم الحرام میں سکیورٹی اقدامات کے حوالے سے سی پی او فیصل آباد نےصدر ڈویژن کا تفصیلی وزٹ اور انتظامات کا جائزہ لیا۔ ترجمان پولیس طارق جٹ نے بتایا کہ محرم الحرام سکیورٹی اقدامات کے حوالے سے سی پی او تنویر حسین نے صدر ڈویژن کا تفصیلی وزٹ کیا۔ انہوں نے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ایس پی صدر ڈویژن سعید سیال ،سرکل افسران اور ایس ایچ اوز ہمراہ تھے۔سی پی او فیصل آباد نے مختلف تھانہ جات میں موجود امام بارگاہ کے جلوسوں کے روٹس وزٹ کئے ۔تھانوں میں نفری کو ڈیوٹی کے بارے بریفنگ لی ۔مرکزی امام بارگاہ قیصر ابو طالب تاندلیانوالہ کے دورے کے دوران سیکیورٹی پلان کا معائنہ کیا۔محرم الحرام کے پُرامن انعقاد کیلئے پولیس فورس کو خصوصی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ امام بارگاہوں اور مجالس کے مقامات پر فول پروف سیکیورٹی یقینی بنایا جائے۔داخلی و خارجی راستوں، واک تھرو گیٹس اور میٹل ڈیٹیکٹرز سے چیکنک کی جائے ۔سی سی ٹی وی نگرانی اور سرچ اینڈ سویپ آپریشنز مزید مؤثر بنائے جائیں ۔
مشکوک افراد اور مشتبہ سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے تاکہ امن و امان کی صورت حال برقرار رکھی جائے۔تمام سیکیورٹی ایس او پیز پر سو فیصد عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ عزاداران کو محفوظ اور پُرامن ماحول کی فراہمی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے ۔بغیر تلاشی کسی شخص کو امام بارگاہ یا مجلس میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔مجالس و جلوسوں کے روٹس پر سخت نگرانی اور مسلسل مانیٹرنگ جاری رہے گی۔ڈیوٹی میں غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جاۓ گی ۔علماء کرام، امن کمیٹیوں اور لائسنس ہولڈرز کے ساتھ مؤثر رابطہ برقرار رکھا جائے ۔ ہوٹلوں، سرائے اور کرائے کے مکانات کی جامع چیکنگ کا عمل مزید تیز کیا جائے ۔ نفرت انگیز اور اشتعال انگیز سوشل میڈیا مواد پھیلانے والوں کی کڑی نگرانی کرتے ہوئے کارروائیاں کی جائیں۔محرم الحرام کے دوران شہریوں کو حفاظتی حصار کی فراہمی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں ۔







