پشاور۔24جون (اے پی پی):محکمہ زراعت خیبر پختونخوا حکومت نے ضم شدہ اضلاع سمیت پورے صوبے میں ہزاروں ایکڑ زمین قابل کاشت بنا کر کسان دوستی کا ثبوت دیاہے،2020-2021میں خیبر پختونخوا میں6500ایکڑ اور ضم شدہ اضلاع کی3800ایکڑزمین قابل کاشت بنائی گئی ہے۔
اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے ایگریکلچر انجینئر ضلع کرم حضرت نبی نے کہا ہے کہ محکمہ زراعت کسانوں کے ٹیوب ویل کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے حوالے سے اپنی خدمات کیساتھ ساتھ زمین کی ہمواری کیلئے بھی معاونت فراہم کرتا ہے،
ٹیوب ویل کو شمسی توانائی پرمنتقل کرنے کیلئے محکمہ زراعت20فی صد سبسڈی دیتاہے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں محکمہ زراعت 311ٹیوب ویل اور کنوئوں کو شمسی توانائی پر منتقل کر چکا ہے جن میں ضم شدہ اضلاع کے186ٹیوب ویل بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کرم مقامی کسانوں کو لینڈ ہولڈنگ سرٹیفیکٹ جاری کرتی ہے جس کی بنیاد پر کسانوں کی زمینوں کو ہموار اور ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ضلع کرم کے مقامی کسان فضل خان کا کہنا ہے کہ پہلے بارش کے بعد ہم فصل کاشت کر لیتے ، بارش نہ ہونے کی صورت میںہماری زمینیں بنجر پڑی رہتیں تاہم محکمہ زراعت کی بدولت زرعی ٹیوب ویل شمسی توانائی پرمنتقل ہونے سے اب ہم اپنی زمینوں کوبڑی آسانی سے سیراب کرتے ہیں اور اس سے گندم،مکئی،لوبیا،دالیں اور سبزیاں حاصل کرتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ٹیوب ویل شمسی توانائی پر منتقل ہونے سے ہمیں وافر مقدار میں پانی دستیاب ہے اور موسم کی مناسبت سے ہماری زمینیں مختلف فصلیں اگانے کے قابل بن چکی ہیں۔ضلع کرم نستی کوٹ کے مقامی کسان دلدار حسین نے اے پی پی کو بتایاکہ نستی کوٹ میں محکمہ زراعت خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے اس کے ٹیوب ویل کو شمسی توانائی پر منتقل کرکے زمین کی ہمواری کی سہولت بھی فراہم کی گئی جس سے اب پیداور پہلے کے مقابلے میں دگنی تگنی ہو گئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ غربت کے باعث اپنے ٹیوب ویل کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا تاہم وہ محکمہ زراعت کا خصوصی طور ہر شکر گزار ہے کہ اس نے نامساعد حالات میں ہماری مدد کی۔ای ایگریکلچراورٹیلی فارمنگ محکمہ زراعت خیبرپختونخوا کے توسط سے صوبے کے کاشتکاروسیع پیمانے پرمستفیدہورہے ہیں اور یہ شعبہ کسانوں کی مددبذریعہ فون کرتا ہے ،محکمہ کے ریکارڈ کے مطابق خیبرپختونخوا بشمول ضم شدہ اضلاع سے باغبانی ،ماہی پروری(فشریز)مال مویشی کی افزائش اورکاشتکاری سے متعلق ماہانہ تین ہزار اوراس شعبہ کے فعال ہونے سے اب تک کل 58ہزارکال موصول ہوئیں اورکسانوں کے مسائل کے حل کیلئے بزریعہ فون مشورہ دیا گیا۔”
اے پی پی ”سے بات چیت کرتے ہوئے پشاور کے مقامی کسان قائم خان کاکہناہے کہ ای ایگریکلچر اور ٹیلی فارمنگ محکمہ زراعت خیبرپختونخوا کاشتکاروں کوفصلوں کی دیکھ بھال کرنے کے حوالے سے فون نمبر0348-1117070پردفتری اوقات میں مفیدمشورے دیتا ہے جبکہ دفترجاکربھی فصلوں کی بہتردیکھ بھال کیلئے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے ،ان مفیدمشوروں کے باعث ہماری گندم کی پیدوارناقابل حد تک بڑھ چکی ہے ۔
واضح رہے کہ اینڈرائیڈ فون استعمال کرنے والے کاشتکارایگریکلچرایکسٹینشن کے پی کے اینڈرائیڈ ایپ کے زریعے فصلوں کے اوقات منڈیوں کی صورتحال اورفصلوں پرمختلف قسم کے بیماریوں کے حملوں کے حوالے سے بذریعہ ایس ایم ایس مذکورہ فون نمبر کے زریعے ادارے کوکال کرسکتے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے وزیر زراعت ولائیو سٹاک محب اللہ خان نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان زراعت کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں زمینداروں کی خوشحالی کیلئے تمام تر اقدامات اٹھارہے ہیں پاکستان ایک زرعی ملک ہے زراعت کا شعبہ ملک کی ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کررہاہے ماضی میں نظرانداز شدہ اس شعبہ پرعمران خان کی قیادت میںمکمل توجہ دے رہی ہے اور اس کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
دوسری جانب پشاور میں چین اور پاکستان نے زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ، کوآپریشن اینڈ ایکسچینج” سے متعلق آن لائن فورم کاا نعقاد گزشتہ روزکیاگیا ، فورم میں سی پیک فیزIIکے تحت زراعت کے تعاون کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ فورم میں دونوں ملکوں سے زیتون، شہد، چائے، تمباکو، مویشیوں،دودھ، ماہی گیری، آلو پروسیسنگ کے شعبوں کے اہم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔
اس موقع پر مہمان خصوصی گورنر خیبر پختون خوا شاہ فرمان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں چترال جیسے اونچائی والے علاقے زعفران کی پیداوار کے لئے زیادہ موزوں ہیں، خیبر پختونخوا میں بہترین کوالٹی تمباکو کاشت کیا جاتا ہے۔گورنر نے غذائی تحفظ کے ابھرتے ہوئے چیلنجوں کو پورا کرنے کیلئے چین اور پاکستان کے مابین زراعت اور تحقیق کے میدان میں مستقبل میں تعائون کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
پاکستان میں چین کے سفیر مسٹر نونگ رونگ نے دونوں ممالک کے مابین صنعتی تعاون کو بڑھانے اور اسے مزید وسیع کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ زراعت دونوں ممالک کی معاشی ترقی اور خوشحالی کے لئے انتہائی اہم ہے اور تحقیق و ترقی کے میدان میں باہمی تعاون لازمی ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کو مزید تقویت ملے گی۔
چیئرمین سی پیک اتھارٹی اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی آب و ہوا اور زمین تمباکو، چائے اور شہدجیسے زرعی پیدوار اور مویشیوں کی نشوونما کیلئے انتہائی موزوں ہے۔ انہوں نے کہا 100ایکڑ اراضی پر مشتمل مرچ کی کاشتکاری کا پائلٹ منصوبہ پاکستان میں مکمل ہوچکا ہے اور اس طرح کے مزید منصوبے بھی سی پیک صنعتی تعاون فیز IIکے تحت پائپ لائن میں ہیں۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی عبد الکریم نے کہا کہ علاقائی ممالک کے ساتھ تجارت کافروغ زراعت کے شعبے کو ترقی دینے میں اہم کردار ادا کرے گا،خیبر پختونخوا زراعت کی مصنوعات کا مرکز ہے اور چینی کمپنیوں کے ساتھ تجارتی روابط اور پیداوار میں اضافہ کے لئے بھی تعاون حاصل کریں گے۔
انہوں نے زراعت کے شعبہ میں پپلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے پر زور دیا۔اس موقع پرچینی سرمایہ کاروں نے زیتون، چائے، شہد، تمباکو، آلو پروسیسنگ، براہ راست اسٹاک اور ڈیری میں تعائون کے طریقوں پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین زراعت کو بڑھانے کے لئے آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے)سے استفادہ کیا جائے۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں میں بھی گہری دلچسپی ظاہر کی۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=259382