خیبر پختونخوا پولیس نے تمام پولیس فارمیشنز اور سینئر افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک سیاسی جماعت کے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مجوزہ مارچ میں سرکاری وسائل کے استعمال اور سرکاری اہلکاروں کی شمولیت پر پابندی سے متعلق عدالتی احکامات پر سختی سے عمل درآمد کریں۔ یہ ہدایت نامہ انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا کے دفتر کی جانب سے گزشتہ روز ایک خط کے …
خیبر پختونخوا پولیس کو 27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کےلیے سرکاری وسائل کا استعمال روکنے کا حکم

مزید خبریں
پشاور۔ 19 ستمبر (اے پی پی):خیبر پختونخوا پولیس نے تمام پولیس فارمیشنز اور سینئر افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک سیاسی جماعت کے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مجوزہ مارچ میں سرکاری وسائل کے استعمال اور سرکاری اہلکاروں کی شمولیت پر پابندی سے متعلق عدالتی احکامات پر سختی سے عمل درآمد کریں۔ یہ ہدایت نامہ انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا کے دفتر کی جانب سے گزشتہ روز ایک خط کے ذریعے جاری کیا گیا ہے جسے تمام پولیس یونٹس، کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) پشاور، ریجنل پولیس افسران اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران کو ارسال کر دیا گیا ہے۔
خط کے مطابق کسی بھی سرکاری افسر یا اہلکار کو اسلام آباد کی طرف جانے والے کسی مارچ، ریلی یا جلوس کےلیے معاونت، سہولت یا کسی بھی قسم کا تعاون فراہم کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی سرکاری ملازم کو ایسا کوئی حکم ملتا ہے تو وہ فوری طور پر متعلقہ چیف سیکرٹری، چیف کمشنر، انسپکٹر جنرل آف پولیس یا دیگر متعلقہ حکام کو مطلع کرے۔ پولیس کو عدالتی احکامات کی تعمیل یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے جن کے تحت سرکاری اہلکار ایسی کسی سرگرمی کی اجازت نہیں دے سکتے جس سے شہریوں کی قانونی نقل و حرکت، کاروبار و تجارت، تعلیمی اداروں، طبی سہولیات یا جائداد کے قانونی استعمال پر منفی اثر پڑے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کی طرف کسی بھی مارچ، ریلی یا جلوس کی سہولت کےلیے سرکاری وسائل، عوامی فنڈز، سرکاری گاڑیوں، مشینری اور دیگر آلات کو براہ راست یا بالواسطہ استعمال، فراہم یا جمع نہیں کیا جا سکتا۔ اس بات کی بھی وضاحت کی گئی کہ کسی بھی سرکاری ملازم کو ایسے کسی مارچ، ریلی یا جلوس میں شرکت کےلیے مجبور، حوصلہ افزائی یا کسی اور طریقے سے دباؤ میں نہیں لایا جا سکتا۔






