پشاور۔ 12 فروری (اے پی پی):وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی عوامی ایجنڈا کے تحت خیبر پختونخوا کی جیلوں میں قید نشے کے عادی افراد کے علاج کا فیصلہ کیا گیا ہے، صوبے کی تمام جیلوں میں قید افراد کے ڈوپ ٹیسٹ کئے جائیں گے،ڈوپ ٹیسٹ کے بعد صوبے کے تمام جیل سپرنٹینڈنٹس کو جیلوں میں قید نشے کے عادی افراد کا ڈیٹا کمشنر پشاور ڈویژن آفس کو فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محکمہ سماجی بہبود، بحالی مراکز کے منتظمین اور جیل سپرنٹینڈنٹس کو جیلوں میں قید نشے کے عادی افراد کے علاج کے لیے مشترکہ پلان مرتب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، پلان کی منظوری کے لیے صوبائی حکومت سے رابطہ کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیر صدارت خیبر پختونخوا کی جیلوں میں قید نشے کے عادی افراد کے علاج کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس آئی جی جیل خانہ جات عثمان محسود کی درخواست پر منعقد کیا گیا جس میں آئی جی جیل خانہ جات عثمان محسود سمیت پشاور اور خیبر پختونخوا کے تمام سنٹرل جیل سپرٹینڈنٹس نے شرکت کی۔ اجلاس میں شرکا کو کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیر قیادت نشے سے پاک پشاور مہم کے تینوں ادوار کے متعلق آگاہی دی گئی اور نشے کے عادی افراد کے علاج سے متعلق آگاہ کیا گیا۔
اجلاس میں سیکرٹری ٹو کمشنر پشاور ڈویژن ڈاکٹر شبیر احمد آکاش اور ڈسٹرکٹ آفیسر سوشل ویلفیئر نور محمد کو فوکل پرسن مقرر کرکے بحالی مراکز کے منتظمین اور جیل انتظامیہ کے ساتھ صوبے کے تمام جیلوں میں قید نشے کے عادی افراد کے علاج کے لیے مشترکہ پلان ترتیب دینے کے احکامات جاری کئے گئے۔ پلان صوبائی حکومت کو پیش کیا جائے گا، بعد ازاں تمام سنٹرل جیل سپرٹینڈنٹس کو بحالی مراکز کے دورے کروائے گئے اور زیر علاج نشے کے عادی افراد کے علاج کے متعلق آگاہی دی گئی
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=559725