درست پالیسیوں کی تشکیل سے غریب ترین ممالک کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے پائیدار ترقی کو غیر معمولی فروغ دیا جا سکتا ہے، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

اقوام متحدہ۔17نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ درست پالیسیوں کی تشکیل سے غریب ترین ممالک کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے پائیدار ترقی کو غیر معمولی فروغ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل تبدیلی کے تھیم پر جی۔ 20کے سربراہی اجلاس کے سیشن کے دوران کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے عام لوگوں کے لیے رابطوں کو فروغ دینے،مساوی رسائی اور …

اقوام متحدہ۔17نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ درست پالیسیوں کی تشکیل سے غریب ترین ممالک کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے پائیدار ترقی کو غیر معمولی فروغ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل تبدیلی کے تھیم پر جی۔ 20کے سربراہی اجلاس کے سیشن کے دوران کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے عام لوگوں کے لیے رابطوں کو فروغ دینے،مساوی رسائی اور غلط معلومات کی روک تھام کی ضرورت ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں رہنمائی اور اقدامات کے بغیر اظہار رائے کی آزادی،بدنیتی پر مبنی مداخلت اور آن لائن خواتین کو نشانہ بنانے سے روکنے کے حوالے سے نقصان کا بہت زیادہ امکان ہے۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ستمبر 2024 میں اقوام متحدہ کے مستقبل کے سربراہی اجلاس کے دوران حکومتوں کو ٹیکنالوجی کمپنیوں، سول سوسائٹی ، متعلقہ ماہرین اور دیگر کے محرک کے ساتھ سب کے لیے کھلا،آزاد ، جامع اور محفوظ ڈیجیٹل مستقبل” کے لیے عالمی ڈیجیٹل معاہدے کی توثیق کرنی چاہیے ۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ٹیکنالوجی کے لیے واحد مربوط نقطہ نظر کے طور پر مضبوط انسانی حقوق پر تین شعبوں کی وضاحت کی جن میں پہلا ’’عالمگیر رابطے‘‘ ہے جس میں دنیا کے ان 3ارب افراد کو انٹرنیٹ تک رسائی دینے کی ضرورت ہے جو ابھی تک انٹرنیٹ سے محروم ہیں اور ان افراد کی اکثریت زمین کے جنوبی نصف کرہ میں مقیم ہے۔

دوسرا انسانی مرکزی حیثیت کی حامل ڈیجیٹل سپیس کا آغاز ہے جس کے تحت لوگوں کو آزادی اظہار اور آن لائن خود مختاری اور پرائیویسی کا حق حاصل ہو لیکن آزادی اظہار کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگوں کو آن لائن ہراساں کیا جائے اور غلط معلومات پھیلائی جائیں جس سے جمہوریت، انسانی حقوق اوور سائنس خطرےسے دوچار ہو بلکہ ڈیجیٹل معاہدے میں حکومتوں ، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اس حوالے سےقواعدو ضوابط وضع کرتے ہوئے ذمہ داریوں پر غور کرنے ضرورت ہے اور تیسرا ڈیٹا ہے جو پائیدار ترقی کے لیے بے پناہ صلاحیت کا حامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی معاہدے کو ان طریقوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے جن میں حکومتیں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور دیگر کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں جن سے ڈیٹا کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دیا جا سکتا ہے اور اس سلسلے میں جی 20 ممالک کی حمایت اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کر سکتی ہے کہ ڈیجیٹل دور محفوظ، جامع اور تبدیلی کا ہے۔