ایشین گیمز ٹیبل ٹینس، چین اورمیزبان جاپان کے درمیان سخت مقابلے کی توقع

ایشین گیمز ٹیبل ٹینس، چین اورمیزبان جاپان کے درمیان سخت مقابلے کی توقع

ٹوکیو۔16ستمبر (اے پی پی):ایشین گیمز ٹیبل ٹینس ایونٹ میں چین نے میزبان جاپان کو بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے ٹائٹل کے دفاع کے لیے نوجوان اور تجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل مضبوط ٹیم میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔رائٹرزکے مطابق ٹیبل ٹینس ایونٹ میں چین کی ٹیم 2028 کے اولمپکس کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے نئے اور نوجوان کھلاڑیوں کو سامنے لا رہی ہے۔

اولمپک چیمپئنز سن ینگشا، وانگ منیو اور وانگ چوچن چین کی مہم کی قیادت کریں گے تاہم 10 رکنی سکواڈ میں 7 کھلاڑی ایسے ہیں جو پہلی بار ایشین گیمز میں شرکت کر رہے ہیں۔ 1974 میں اپنی پہلی آمد کے بعد سے چین ایشین گیمز میں ٹیبل ٹینس پر حاوی رہا ہے اور 1978، 2010 اور 2018 میں تمام گولڈ میڈلز اپنے نام کر چکا ہے۔

خواتین ٹیم کے ہیڈ کوچ ما لن کا کہنا ہے کہ انہوں نے جاپانی کھلاڑیوں کے کھیل کے انداز کا تفصیلی جائزہ لیا اور وہ جاپان کی جانب سے درپیش چیلنج سے مکمل طور پر باخبر ہیں۔خواتین کی عالمی رینکنگ میں وانگ منیو پہلے، سن ینگشا دوسرے اور جاپان کی 18 سالہ میوا ہاری موٹو تیسرے نمبر پر ہیں۔

جاپان کی میوا ہاری موٹو اور ہینا ہیاتا کی جوڑی ویمنز ڈبلز رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہے جبکہ مکسڈ ڈبلز میں جنوبی کوریا کی شین یو بن اور لم جونگ ہون کی جوڑی سرفہرست ہے اس کے باوجود چینی کوچ ما لن تمام گولڈ میڈلز جیتنے کے لیے پرامید ہیں۔

مردوں کے شعبے میں دفاعی چیمپئن اور عالمی نمبر ون وانگ چوچن ہی واحد کھلاڑی ہیں جن کے پاس ایشین گیمز کا سابقہ تجربہ ہے جبکہ جاپان کے سورا ماتسوشیما اور تومو کازو ہاری موٹو مردوں کی رینکنگ میں تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہیں۔ چین کے ہیڈ کوچ چن ژیجیان کے مطابق تجربہ کار اور نوجوان کھلاڑیوں کا یہ امتزاج بہترین نتائج دے گا۔ ایشین گیمز میں ٹیبل ٹینس مقابلے اتوار سے سکائی ہال ٹویوٹا میں شروع ہوں گے۔