22.6 C
Islamabad
پیر, ستمبر 1, 2025
ہومزرعی خبریںدنیا بھرمیں چاول کی مجموعی پیداوار438ملین ٹن تک پہنچ گئی، پاکستان 6.16ملین...

دنیا بھرمیں چاول کی مجموعی پیداوار438ملین ٹن تک پہنچ گئی، پاکستان 6.16ملین ٹن چاول پیدااور3.75 ملین ٹن برآمدکررہا ہے،ماہرین زراعت

- Advertisement -

فیصل آباد۔ 27 اگست (اے پی پی):دنیا بھر میں اس وقت چاول کی مجموعی پیداوار 438ملین ٹن تک پہنچ گئی ہے جبکہ پاکستان 6.16ملین ٹن چاول پیدا کررہاہے جس میں سے چاول کی برآمد 3.75 ملین ٹن ہے نیز گزشتہ سال پنجاب میں 41 لاکھ 98ہزار 456 ایکڑسے زائد رقبہ پر دھان کی فصل کاشت کی گئی جہاں سے 34 لاکھ 60ہزار 123ٹن سے زائد چاول کی پیداوار حاصل ہوئی۔ ماہرین رائس ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے بتایاکہ حکومتی ہدایات کی روشنی میں رائس ریسرچ انسٹیٹیوٹ اور بعض دیگر تحقیقی اداروں کے اشتراک سے دھان کی ایسی اقسام تیار کی جارہی ہیں جو بیکٹیریل لیف بلائیٹ کی بیماری کے خلاف بھرپور قوت مدافعت رکھتی ہیں۔انہوں نے بتایاکہ عالمی ادارہ سے ایسی اقسام کے جینز بھی منگوائے جا رہے ہیں جو سیلاب کی صورت میں 15دنوں تک پانی کی زیادتی کو برداشت کر نے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے بتایاکہ زیادہ پیداوار کی حامل نئی اقسام کی دریافت، کم لاگت پیداواری ٹیکنالوجی پیکیج کی تیاری،دھان کے ضرر رساں کیڑوں، بیماریوں اور جڑی بوٹیوں کے غیر کیمیائی کنٹر ول اور پبلک و پرائیویٹ سیکٹر کیلئے پری بیسک سیڈ کی تیاری پر تحقیق کا عمل جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے چاول کی بذریعہ بیج براہ راست کاشت کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی تیار کی ہے جس کے ذریعے دھان کی بیج سے براہ راست کاشت سے کھیت میں پودوں کی مطلوبہ تعداد80 ہزار پودے فی ایکڑ حاصل کر کے پیداوار میں عام کاشت کی نسبت 6 سے8 من فی ایکڑ اضافہ اور اخراجات میں قریباََ14ہزار روپے فی ایکڑ بچت ہوتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ ٹیکنالوجی مشینی اور روایتی کاشت کی نسبت کافی سستی ہونے کے ساتھ ساتھ کم وقت میں بہترین نتائج دیتی ہے اور اس سے 30سے35فیصد پانی کی بچت بھی ہوتی ہے۔

- Advertisement -

انہوں نے کہا کہ کپاس کے بعد دھان پاکستان کی اہم نقدا ٓور فصل ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے زرعی تحقیق کیلئے فنڈز کی فراہمی سمیت انفراسٹرکچر اور افرادی قوت کی بین الاقوامی معیار کے مطابق تربیت کیلئے وسائل مہیا کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ زرعی برآمدات میں چاول کی اہمیت کے پیش نظر اس اہم غذائی و نقدآور فصل کی پیداوار بڑھانے کیلئے ہر ممکن وسائل سے استفادہ کرناہو گا۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ زراعت کے حکام کو چاہیے کہ وہ چاول کی پیداوار بڑھانے، ایفلا ٹاکسن کی بیماری کو کنٹرول کرنے اوربرآمد کیلئے حفظان صحت کے اصولوں کو عالمی معیار کے مطابق بنانے کیلئے کاشتکاروں میں شعور و آگاہی پیداکرنے کے ضمن میں زیادہ سے زیادہ سمینارزکاانعقاد یقینی بنائیں تاکہ جدید تحقیق کے ثمرات عام کاشتکاروں تک بھی پہنچ سکیں۔

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں