دھان کی باقیات کو آگ لگانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان

فیصل آباد۔ 10 اکتوبر (اے پی پی):دھان کی باقیات کو آگ لگانے والوں کے خلاف قانونی کاروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں سے ایک ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں اور فضائی آلودگی کا شکار ہیں جبکہ سموگ ماحولیاتی آلودگی کی ایک خطرناک قسم ہے جس میں ٹھہری ہوئی ہوا میں موجود گیسیں کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسا ئیڈ، میتھین، سلفر ڈائی …

فیصل آباد۔ 10 اکتوبر (اے پی پی):دھان کی باقیات کو آگ لگانے والوں کے خلاف قانونی کاروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں سے ایک ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں اور فضائی آلودگی کا شکار ہیں جبکہ سموگ ماحولیاتی آلودگی کی ایک خطرناک قسم ہے جس میں ٹھہری ہوئی ہوا میں موجود گیسیں کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسا ئیڈ، میتھین، سلفر ڈائی آکسائیڈاور ہائیڈرو کاربن وغیرہ کے ذرات مل کر سموگ کا روپ دھار لیتے ہیں نیز سموگ فضائی آلودگی کی وہ قسم ہے جو انسانوں، جانوروں اور پودوں کے علاوہ پورے ماحول کو آلودہ کر دیتی ہے کیونکہ سموگ ہوا میں معلق رہتا اور زمین کی سطح کے قریب ہونے کی وجہ سے ہر جاندار بشمول پودوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

نظامت زرعی اطلاعات محکمہ زراعت کے ترجمان نے بتایا کہ سموگ کی زیادتی کی صورت میں پودوں کی بڑھوتری کا عمل رک جاتا ہے اور یہ حالت انسانی جانوں کے ساتھ فصلات، باغات اور سبزیات کو بہت نقصان پہنچاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سموگ کی وجوہات میں ٹریفک اور فیکٹریوں سے نکلنے والے دھویں کے علاوہ فصلوں کی باقیات کو آگ لگانا بھی شامل ہے اور چونکہ دھان کی فصل ابھی برداشت سے کٹائی کی طرف جا رہی ہے لہٰذاسموگ سے بچاؤ کیلئے کاشتکار دھان کی کٹائی کے بعد اس کی باقیات کو آگ ہر گز نہ لگائیں کیونکہ دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے سے فضائی آلودگی(سموگ)پیدا ہوتی ہے۔

ترجمان نے مزید کہاکہ دھان کے کاشتکار کٹائی کے بعد مڈھوں کو آگ لگانے سے گریز کریں کیونکہ دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے سے زمین کی بالائی سطح پر موجود نامیاتی مادہ کو نقصان پہنچتا ہے اور زمین کی ذرخیزی متاثر ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دھان کے کاشتکار مڈھوں کو آگ لگانے کی بجائے انہیں زمین میں ملا کر زرخیزی میں اضافہ کریں اوردھان کے مڈھوں کو تلف کرنے کیلئے کاشتکار دستی کٹائی کی صورت میں روٹا ویٹر اور مشین سے کٹائی کی صورت میں ڈسک ہیرو کی مدد سے فصل کی باقیات کو زمین میں ملا دیں یا گہرا ہل چلا کر آدھی بوری یوریا فی ایکڑ چھٹہ کرکے پانی لگا دیں جس سے زمین کی زرخیزی اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کاشتکار دھان کے مڈھوں کی تلفی کے سلسلہ میں محکمہ زراعت کی ہدایات پر عمل کریں کیونکہ سموگ کی وجہ سے انسانی زندگیوں پر براہ راست منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔