خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور صاحبزادہ محمد عدنان قادری کی زیر صدارت خیبر پختونخوا اقلیتوں کی بحالی (دہشت گردی کے متاثرین) انڈوومنٹ فنڈ کی اسسمنٹ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔
دہشت گردی سے متاثرہ اقلیتی خاندانوں کی بحال کیلئے 12 کروڑ 60 لاکھ روپے مالی امداد کی منظوری

مزید خبریں
پشاور۔ 07 جولائی (اے پی پی):خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور صاحبزادہ محمد عدنان قادری کی زیر صدارت خیبر پختونخوا اقلیتوں کی بحالی (دہشت گردی کے متاثرین) انڈوومنٹ فنڈ کی اسسمنٹ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔تر جمان محکمہ اوقاف خیبرپختونخوا کے مطابق اجلاس میں دہشت گردی سے متاثرہ اقلیتی برادریوں کے مستحق افراد اور خاندانوں کی مالی معاونت، بحالی اور فلاح و بہبود سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی اسمبلی کے معزز اراکین، متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام اور ضلعی انتظامیہ کے نمائندوں نے شرکت کی۔ایڈیشنل سیکرٹری اوقاف و مذہبی امور حبیب خان آفریدی نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پشاور، مردان، بونیر اور لوئر چترال سمیت مختلف اضلاع کی جانچ پڑتال کمیٹیوں کی جانب سے موصول ہونے والے 173 کیسز کی مکمل جانچ، تصدیق اور قانونی چھان بین کے بعد انہیں اسسمنٹ کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا۔ کمیٹی نے تمام دستیاب ریکارڈ، سفارشات اور متعلقہ دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد 167 مستحق افراد اور خاندانوں کیلئے مجموعی طور پر 12 کروڑ 60 لاکھ روپے مالی امداد کی منظوری دی۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ منظور شدہ امدادی پیکیج کے تحت دہشت گردی کے واقعات میں زخمی ہونے والے افراد، بیوہ گان، یتیم بچوں، غیر شادی شدہ بیٹیوں اور مستقل معذوری کا شکار افراد کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ متاثرہ خاندانوں کو درپیش معاشی مشکلات میں کمی لائی جا سکے اور انہیں باوقار انداز میں اپنی زندگی کی بحالی کا موقع فراہم ہو۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مالی امداد کے تمام کیسز متعلقہ ضلعی جانچ پڑتال کمیٹیوں کی سفارشات اور تصدیق کے بعد پیش کیے گئے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ ہر کیس کی جانچ نہ صرف ضلعی سطح پر کی گئی بلکہ محکمانہ سطح پر بھی تمام دستاویزات، شناختی کوائف، واقعہ کی نوعیت اور اہلیت کے معیار کی ازسرنو تصدیق کی گئی تاکہ شفافیت، میرٹ اور جوابدہی کے اصولوں کو یقینی بنایا جا سکے۔کمیٹی نے ایک خاتون درخواست گزار کے کیس کا بھی جائزہ لیا جس کا نام دو مختلف امدادی زمروں میں شامل تھا۔ کمیٹی نے قرار دیا کہ ایک ہی مستحق فرد کو ایک سے زائد زمروں کے تحت مالی فوائد دینا فنڈ کے اغراض و مقاصد اور مساوی تقسیم کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ چنانچہ فیصلہ کیا گیا کہ مذکورہ درخواست گزار کو صرف ایک مجاز زمرے کے تحت مالی امداد فراہم کی جائے گی تاکہ کسی قسم کی دوہری ادائیگی یا مالی بے ضابطگی کا احتمال باقی نہ رہے۔ اجلاس میں مستقل معذوری سے متعلق سات کیسز کا بھی جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ صرف ایک درخواست گزار نے مجاز اتھارٹی سے جاری شدہ معذوری کا سرٹیفکیٹ فراہم کیا ہے جبکہ باقی چھ درخواست گزاروں کی جانب سے مطلوبہ دستاویزات تاحال جمع نہیں کرائی گئیں۔ کمیٹی نے ان چھ کیسز کو اصولی طور پر منظور کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ مالی امداد کا اجراء مجاز اتھارٹی سے جاری کردہ معذوری کے سرٹیفکیٹس کی فراہمی اور تصدیق سے مشروط ہوگا۔ محکمہ سماجی بہبود کے نمائندے نے اس ضمن میں مکمل تعاون اور ضروری سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس کے دوران شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ دہشت گردی کے متاثرین اور ان کے اہل خانہ کی بروقت معاونت ریاستی ذمہ داری ہے۔اور اس مقصد کیلئے قائم انڈوومنٹ فنڈ اقلیتی برادریوں کے اعتماد اور احساسِ تحفظ کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ شرکاء نے اس توقع کا بھی اظہار کیا کہ مستقبل میں دستیاب وسائل کے مطابق امدادی رقوم میں مزید اضافہ کیا جا سکے گا تاکہ متاثرہ خاندانوں کو زیادہ مؤثر سہارا فراہم کیا جا سکے۔اجلاس میں مردان کے تاریخی گوردوارہ سنگھ سبھا میں پیش آنے والے حالیہ دہشت گردی کے افسوسناک واقعہ پر بھی تفصیلی غور کیا گیا، جس میں جگن ناتھ اور ان کی اہلیہ جاں بحق ہوئے تھے۔
کمیٹی نے واقعہ کی سنگینی اور متاثرہ خاندان کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے جاں بحق افراد کے قانونی ورثاء کیلئے چالیس لاکھ روپے مالی امداد کی منظوری دی۔ مزید فیصلہ کیا گیا کہ ضلعی جانچ پڑتال کمیٹی اپنی رپورٹ ایک ہفتے کے اندر مکمل کر کے پیش کرے تاکہ قانونی تقاضے بروقت مکمل کرتے ہوئے امدادی رقم کی فوری ادائیگی ممکن بنائی جا سکے۔اجلاس میں شریک اراکین صوبائی اسمبلی نے اقلیتی برادریوں کی فلاح و بہبود، سماجی تحفظ اور دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی کیلئے صوبائی حکومت کے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی یہ معاونت متاثرہ خاندانوں کیلئے امید، اعتماد اور حوصلے کا ذریعہ ثابت ہوگی اور انہیں معاشی مشکلات سے نکلنے میں مدد ملے گی۔صوبائی وزیر اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور نے اپنے گفتگو میں کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت اقلیتی برادریوں کے جان و مال کے تحفظ، مذہبی آزادی، آئینی حقوق اور سماجی ترقی کیلئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے متاثرین کی مدد صرف ایک انتظامی یا مالی معاملہ نہیں بلکہ ایک قومی اور انسانی ذمہ داری ہے۔ حکومت اس امر کیلئے پرعزم ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ ہر مستحق خاندان کو قانون کے مطابق بھرپور معاونت فراہم کی جائے اور انہیں تنہا ءمحسوس نہ ہونے دیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقلیتی برادریاں صوبے کی سماجی، ثقافتی اور قومی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور حکومت ان کے تحفظ، وقار اور خوشحالی کیلئے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لاتی رہے گی۔ اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور معاونت کے اقدامات کو مزید مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنایا جائے گا تاکہ دہشت گردی سے متاثرہ افراد کو بروقت اور باعزت سہارا فراہم کیا جا سکے۔








