اسلام آباد۔22جون (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کی ذمہ داری تمام وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ اداروں پر عائد ہوتی ہے،ملک سے اس لعنت کے خاتمے کے لیے اجتماعی اور مربوط حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔
ہفتہ کے روز وزیراعظم نے نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ریاست میں احتساب کے عمل کو مکمل طور پر اور بغیر کسی استثنی کے نافذ کیا جائے۔اجلاس میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزراء اور اعلیٰ فوجی افسران نے شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی نے پاکستان کو ڈھائی دہائیوں سے مختلف طریقوں سے متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کا مسئلہ بہت پیچیدہ ہے ، دہشت گردی کا جرائم، منشیات، اسمگلنگ، انتہا پسندی اور مذہبی منافرت کے درمیان مہلک رشتہ ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں پائیدار ترقی کے لیے استحکام اور قانون کی حکمرانی ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک سافٹ سٹیٹ کبھی بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد نہیں جیت سکتی ، عدم استحکام اور دہشت گردی سے دوچار ملک میں ایک صحت مند اور مضبوط معیشت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
وزیراعظم نے کہا کہ تمام ادارے اور صوبائی حکومتیں دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے مکمل طور پر پاکستان کی مسلح افواج پر انحصار کر رہی ہیں اور ایسی کسی بھی ذمہ داری سے خود کو بری الذمہ قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک خطرناک رجحان ہے جو گزشتہ چند سالوں میں سامنے آیا ہے جو ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو مکمل طور پر جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں مدد نہیں دے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک مکمل نظام اور حکومت کے بغیر پائیدار استحکام کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کئی دہائیوں سے اپنا خون بہا رہی ہیں، بے مثال اور بے شمار قربانیاں دے رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں، وزارتیں، وفاقی اور صوبائی حکومتیں اور تمام ادارے مل کر دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے کام کریں۔وزیراعظم نے نشاندہی کی کہ آئین میں 18ویں ترمیم کے بعد اس سلسلے میں صوبائی حکومتوں کا بڑا کردار ہےکیونکہ اب انہیں اس سلسلے میں تمام مطلوبہ وسائل حاصل ہیں۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ ملک کو امن اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ہمیں سیاسی اور مذہبی قیادت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے سیاسی اور مذہبی قیادت کوواضح ہونا چاہیے کہ یہ جنگ ہماری اپنی نسلوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام اختلافات سے بالاتر ہو کر ہمیں یہ ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور اس سلسلے میں اپنی مسلح افواج کی حمایت کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف ایک ادارے پر ذمہ داری ڈالنا ایک صریح غلطی ہوگی۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان سے باہر دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے بھی فعال سفارت کاری کی ضرورت ہے۔وزیر اعظم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بااختیار بنانے کے لیے قانون سازی کی ضرورت پر بھی زور دیا اور انسداد دہشت گردی کی موثر کارروائیوں میں ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر موجودہ قانونی خلا کی بھی نشاندہی کی۔ انہوں نے پاک فوج اور وزارت داخلہ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کے لیے تمام ممکنہ وسائل اور آلات فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پاک چین تعلقات کے حوالے سے جاری مہم کو بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی سوشل میڈیا پر چلائی جانیوالی ایک گندی مہم قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا جو ملک کو غیر مستحکم کرنے کے لیے چلائی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ چینی قیادت نے اپنے بیانات کے ذریعے اس مہم کا مقابلہ کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس قدر اہمیت دیتے ہیں۔