اقوام متحدہ۔19دسمبر (اے پی پی):پاکستان نے دہشت گردی کے خطرات کے باوجود شام میں جاری اصلاحات کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ شام کا مستقبل خود شامی عوام کو طے کرنا چاہیے۔یہ بات اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے گزشتہ روز سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہم گزشتہ ایک سال کے دوران شامی حکومت کی …
دہشت گردی کے خطرات کے باوجود شامی حکومت کے عبوری اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ملک کا مستقبل خود شامی عوام کو طے کرنا چاہیے، پاکستان

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔19دسمبر (اے پی پی):پاکستان نے دہشت گردی کے خطرات کے باوجود شام میں جاری اصلاحات کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ شام کا مستقبل خود شامی عوام کو طے کرنا چاہیے۔یہ بات اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے گزشتہ روز سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہم گزشتہ ایک سال کے دوران شامی حکومت کی جانب سے کئے گئے عبوری اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جن میں آئینی اعلامیے کا اجرا، نئی کابینہ کی تشکیل، قانون ساز انتخابات کا انعقاد اور نیشنل ڈائیلاگ ڈے کا انعقاد شامل ہے۔
انہوں نے شام کے اتحاد، خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام ریاستی ادارے اور سکیورٹی ڈھانچے ایک مرکزی فریم ورک کے تحت کام کریں تاکہ انتشار سے بچا جا سکے، مؤثر حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے اور مسلح دھڑوں کو ایک متحد کمانڈ کے تحت دوبارہ ضم کرنے کی شامی حکومت کی کوششوں کی حوصلہ افزائی ہو۔دہشت گردی کے خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستانی مندوب نے پالمیرا میں امریکی اور شامی مشترکہ گشت پر حالیہ دہشت گرد حملے کی مذمت کی اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ داعش اب بھی ایک سنگین خطرہ ہے اور اس کا فیصلہ کن طور پر مقابلہ کیا جانا چاہیے۔
اسی طرح غیر ملکی دہشت گرد جنگجوؤں کی موجودگی سے نمٹنا اور اسلحہ کی تلفی اور بحالی کے اقدامات کو آگے بڑھانا طویل المدتی سکیورٹی کے لئے نہایت اہم ہے۔معاشی صورتحال پر پاکستانی مندوب نے امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے پابندیاں ہٹانے اور سعودی عرب، قطر اور ترکیہ سمیت علاقائی ممالک کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ اب توجہ پائیدار ترقی اور تعمیرِ نو پر مرکوز ہونی چاہیے تاکہ روزگار کی بحالی، اہم انفراسٹرکچر کی تعمیرِ نو اور شامی عوام کو برسوں کی مشکلات کے بعد معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے میں مدد مل سکے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ شام مسلسل ضبط کا مظاہرہ کر رہا ہے اور سفارتی ذرائع اختیار کر رہا ہے، تاہم اسرائیل کی جانب سے شام کی خودمختاری کی بار بار اور کھلی خلاف ورزیاں استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور مزید کشیدگی کا خطرہ بڑھا رہی ہیں۔
پاکستانی مندوب نے بیت جن اور دیگر علاقوں میں اسرائیلی حملوں اور شامی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں بلکہ امن کی کوششوں کے بھی منافی ہیں اور انہیں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔







