لاہور ہائیکورٹ نے خلع کی صورت میں حق مہر کی واپسی سے متعلق دائر درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ رخصتی نہ ہونے یا میاں بیوی کے ساتھ نہ رہنے کے باوجود بھی خاتون حق مہر کی حقدار ہے۔
رخصتی نہ ہونے یا میاں بیوی کے ساتھ نہ رہنے کے باوجود بھی خاتون حق مہر کی حقدار ہے،لاہورہائیکورٹ
لاہور۔24جون (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے خلع کی صورت میں حق مہر کی واپسی سے متعلق دائر درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ رخصتی نہ ہونے یا میاں بیوی کے ساتھ نہ رہنے کے باوجود بھی خاتون حق مہر کی حقدار ہے۔لاہورہائیکورٹ کے جسٹس مرزا وقاص رئوف نے اذکا آفرین کی درخواست پر 9صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ رخصتی نہ ہونے یا ازدواجی تعلق قائم نہ ہونے سے بھی مہر کا قانون ختم نہیں ہوتا۔ اگر نکاح نامے میں مہر کی ادائیگی کا وقت نہ لکھا ہو تو پورا مہر فوری طور پر دیناہو گا۔ مہر کی تفصیل واضح نہ ہونے پر قانون کے مطابق سارا مہر جب مانگا جائے تب ہی واجب الادامانا جائے گا ،نکاح نامے میں لکھا گیا 10 تولہ سونا، ایک کنال زمین اور مکان فوری ادائیگی والا مہر ہے۔فیصلے کے مطابق خلع یعنی عورت کی طرف سے شادی ختم کرنے پر وہ مہر کا 25 فیصد حصہ شوہر کو واپس کرنے کی پابند ہے۔ خلع کی بنیاد پر شادی اس صورت میں فوری ختم ہوگی بشرطیکہ خاتون مہر کا 25 فیصد حصہ شوہر کو واپس کرے۔ ہائیکورٹ نے ماتحت عدالتوں کی غلطی دور کرتے ہوئے اذکا افرین کی درخواست منظور کر لی۔









