اسلام آباد۔21اکتوبر (اے پی پی):چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت رشکئی سپیشل اکنامک زون پورے صوبے کا جغرافیائی مرکز ہے جو معاشی لحاظ سے پورے خطے کوباہم مربوط کرے گا،صنعت کاری کے فروغ سے بیروزگاری میں کمی ہو گی، معاشی ترقی اورخوشحالی آئے گی ،صنعتی پالیسی کے تحت چین اور پاکستان کی باہمی رضامندی سے طے ہونے والی مراعات پر عملدرآمد کرائیں گے۔ سرمایہ کاری بورڈ کے حکام کے مطابق …
رشکئی سپیشل اکنامک زون معاشی لحاظ سے پورے خطے کوباہم مربوط کرے گا، حکام سرمایہ کاری بورڈ
اسلام آباد۔21اکتوبر (اے پی پی):چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت رشکئی سپیشل اکنامک زون پورے صوبے کا جغرافیائی مرکز ہے جو معاشی لحاظ سے پورے خطے کوباہم مربوط کرے گا،صنعت کاری کے فروغ سے بیروزگاری میں کمی ہو گی، معاشی ترقی اورخوشحالی آئے گی ،صنعتی پالیسی کے تحت چین اور پاکستان کی باہمی رضامندی سے طے ہونے والی مراعات پر عملدرآمد کرائیں گے۔
سرمایہ کاری بورڈ کے حکام کے مطابق رشکئی سپیشل اکنامک زون سی پیک کے تحت بننے والا پہلا اکنامک زون ہوگا جس سے صوبہ میں صنعتی سرگرمیوں کوفروغ حاصل ہوگا۔رشکئی اکنامک زون میں 2000 سے زائد ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا عندیہ دیا ہے۔چین اقتصادی رہداری کے تحت خیبر پختونخوا کے اہم منصوبے رشکئی خصوصی اقتصادی زون میں تیزی سے کام جاری ہے۔یہ زون تیز رفتار صنعتکاری کے فروغ کے لئے سنگ میل ثابت ہو گا
۔ یہ زون ایک ہزار ایکٹر اراضی پر مشتمل ہوگا۔ وفاقی حکومت نے اس زون کو تین مرحلوں میں تقسیم کر رہا ہے۔ 210 میگاواٹ بجلی تین مرحلوں میں حکومت فراہم کرے گی۔ اس زون کے لئے حکومت نے 1203 ملین روپے گیس کی فراہمی کی مد میں رکھے ہیں۔یہ زون تین مرحلوں میں تعمیر کیا جائے گا پہلے مرحلے میں 247 ایکڑ، دوسرے مرحلہ میں 355 ایکڑ اور تیسرے مرحلے میں 399 ایکڑ زمین ڈویلپ کی جائے گی۔ اس زون میں 80 فیصد مقامی لوگوں روز گار فراہم کیا جائے گا،ر شکئی خصوصی اقتصادی زون ایئرپورٹ ، ڈرائی پورٹ ، ریلوے اسٹیشن ، موٹر وے اور شاہراہوں کے توسط سے پاکستان کے تمام صوبوں سے منسلک ہے۔
یہ زون کے پی کے پانچ بڑے اضلاع نوشہرہ ، مردان اور صوابی ، چارسدہ اور پشاور کے سنگم پر واقع ہے۔ منسلک اضلاع میں ذرخیز زمین ہے ، جو مختلف قسم کی نقد آ ور فصلوں اور سبزیوں کے اگانے کے لئے موزوں ہے۔ ر شکئی خصوصی اقتصادی زون میں 400 سے زائد صنعتیں شامل ہوں گی جن میں گارمنٹس اور ٹیکسٹائل کی مصنوعات ، گھریلو سازو سامان ، عام تجارتی سامان ، الیکٹرانکس اور بجلی کے آلات ، آٹوموبائل اور مکینیکل سامان شامل ہیں۔ نوشہرہ ، مردان اور پشاور میں کئی دوا ساز کمپنیاں موجود ہیں۔
معاشی زون میں ہزاروں خواتین شامل ہوں گی جو روزانہ اپنے گھروں اور اپنے کام کے مقام کے درمیان سفر کرتی تھیں۔ ر شکئی خصوصی اقتصادی زون دراصل مقامی خواتین کو بااختیار بنانے کا ایک ذریعہ ہے۔اقتصادی زون میں پھلوں اوراشیائے خوراک کی پیکجنگ، ٹیکسٹائیل سٹچنگ و نیٹنگ اوردیگر متعلقہ صنعتوں کے قیام اوران کیلئے سہولیات پر توجہ دی جائے گی۔ اس صنعتی بستی سے ائیرپورٹ کا فاصلہ 65کلومیٹر، ڈرائی پورٹ 65 کلومیٹر، ریلوے سٹیشن 25کلومیٹر، سٹی سینٹر15 کلومیٹر، ہائی وے 5کلومیٹر اورموٹروے بالکل متصل ہے۔









