کینبرا۔14نومبر (اے پی پی):رواں سال کے دوران عالمی سطح پر فوصل ایندھن سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا نیا ریکارڈ بننے کی توقع ہے۔جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کے مطابق گلوبل کاربن بجٹ سے متعلق گزشتہ روز جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ میں ہائیڈرو کاربن جلانے، سیمنٹ کی پیداوار اور زمینی استعمال، جیسے جنگلات کی کٹائی کے ذریعے کرہ ارض کی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا …
رواں سال کے دوران عالمی سطح پر فوصل ایندھن سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا نیا ریکارڈ بننے کی توقع ہے،رپورٹ

مزید خبریں
کینبرا۔14نومبر (اے پی پی):رواں سال کے دوران عالمی سطح پر فوصل ایندھن سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا نیا ریکارڈ بننے کی توقع ہے۔جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کے مطابق گلوبل کاربن بجٹ سے متعلق گزشتہ روز جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ میں ہائیڈرو کاربن جلانے، سیمنٹ کی پیداوار اور زمینی استعمال، جیسے جنگلات کی کٹائی کے ذریعے کرہ ارض کی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا تجزیہ شامل ہے اور اخراج کے اعداد و شمار کو 2015 کے پیرس معاہدے میں متعین کردہ حدود سے موازنہ کیا گیاہے۔
پیرس معاہدے میں درجہ حرارت کو صنعتی انقلاب کے دور کی سطح سے دو ڈگری سینٹی گریڈ اضافے تک محدود کرنے کا عہد کیا گیا تھا، جس کا ابتدا میں حقیقی طور ڈيڑھ ڈگری سینٹی گریڈ تک کمی کا تخمینہ رکھا گيا ہے۔ سائنس دانوں کی بین الاقوامی ٹیم نے مطالعہ کیا اور پایا کہ فوصل ایندھن سے سی او ٹو کا اخراج ایک سال پہلے کے مقابلے 2025 میں 1.1 فیصد زیادہ ہو گا۔ تیل، گیس اور کوئلے جیسے فوصل ایندھن اور دیگر ذرائع سے گرین ہاؤس گیسز کا اخراج مجموعی طور پر 38.1 بلین ٹن تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قابل تجدید توانائی کے استعمال میں مسلسل عالمی توسیع کے باوجود یہ توانائی کی طلب میں مجموعی ترقی کو پورا کرنے کے لئے کافی نہیں ہے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت شائع ہوئی ہے، جب آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق شمالی برازیل کے ایمیزون میں اقوام متحدہ کی سی او پی 30 کانفرنس ہو رہی ہے۔ نئی رپورٹ میں 170 بلین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بقایا الاؤنس کا تخمینہ لگایا گیا ہے تاکہ درجہ حرارت کو صنعتی دور کے پہلے وقت کے مطابق ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کیا جا سکے۔سائنسدانوں کی ٹیم کی قیادت کرنے والے برطانیہ کی ایکسٹر یونیورسٹی کے پیئر فریڈلنگسٹائن نے کہا کہ اس سے قبل کہ 1.5سینٹی گریڈ کا بجٹ ختم ہو جائے، اخراج کی موجودہ شرح 4 سال کے اخراج کے برابر ہے لہذا بنیادی طور پر یہ ناممکن ہے۔ رواں ہفتے یہ سربراہی اجلاس چین کے بعد دنیا میں آلودگی پھیلانے والے دوسرے سب سے بڑے ملک امریکا کی موجودگی کے بغیر ہو رہا ہے۔ امریکا برازیل کےشہر بیلم میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اس کانفرنس میں اپنی کوئی ٹیم نہیں بھیج رہا ہے۔








