ماسکو ۔24جون (اے پی پی):روس کے علاقے داغستان میں نامعلوم مسلح افراد کے یہودی عبادت گاہ، ایک آرتھوڈوکس چرچ اور پولیس سٹیشن پر کئے گئے حملوں میں ایک پادری سمیت 15 سے زیادہ پولیس اہلکار اور متعدد شہری ہلاک ہو گئے ۔ اردو نیوز کے مطابق داغستان کے گورنر سرگئی میلیکوف نے وڈیو پیغام میں واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مسلح افراد نے دو شہروں میں قائم دو گرجاگھروں، ایک یہودی عبادت گاہ اور ایک پولیس چوکی پر فائرنگ کی، چھ حملہ آوروں کو مار دیا گیا ہے۔
روس کی قومی انسداد دہشت گردی کمیٹی نے مسلم اکثریتی علاقے میں ان حملوں کو دہشت گردانہ کارروائیاں قرار دیا ہے۔قومی انسداد دہشت گردی کمیٹی نے بتایا کہ ڈربینٹ اورمخاچکالاکے شہروں میں دو آرتھوڈوکس گرجاگھروں، ایک یہودی عبادت گاہ اور ایک پولیس چوکی پر حملے کیے گئے۔ابتدائی معلومات کے مطابق دہشت گردانہ حملوں کے نتیجے میں روسی چرچ کے ایک پادری اور پولیس افسران مارے گئے۔علاقے میں پیر، منگل اور بدھ کو سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔
داغستان کی وزارت داخلہ سے جاری بیان مین کہا گیا ہے کہ مسلح افراد کے ایک گروپ نے بحیرہ کیسپین کے کنارے واقع ڈربینٹ شہر میں یہودی عبادت گاہ اور چرچ پر فائرنگ کی جس کے بعد دونوں میں آگ بھڑک اُٹھی۔اسی دوران داغستان کے دارالحکومت مخا چکالا میں ایک چرچ اور ٹریفک پولیس چوکی پر بھی حملے کی اطلاعات سامنے آئیں۔حکام نے علاقے میں انسداد دہشت گردی آپریشن کا اعلان کیا ہے۔ انسداد دہشت گردی کمیٹی کا کہنا ہے کہ پانچ حملہ آورہلاک ہو گئے ہیں۔حملوں کی ذمہ داری فوری طور پر قبول نہیں کی گئی۔ حکام نے دہشت گردی کی کارروائی کے الزام میں مجرمانہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔