واشنگٹن۔12فروری (اے پی پی):یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اپنے ابتدائی موقف سے انحراف کرتے ہوئے روس کے ساتھ بات چیت کی غرض سے کچھ علاقوں کا روس کے ساتھ تبادلہ کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ وہ فروری 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعدیوکرین کے کسی بھی علاقے سے دستبردار ہونے سے انکار کر چکے ہیں۔
دی گارڈین کو انٹرویو میں یوکرینی صدر نے کہا کہ وہ میونخ سکیورٹی کانفرنس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ جمعہ کو ہونے والی ملاقات سے پہلے کرسک میں ایک سال قبل قبضے میں لئے گئے روسی علاقوں سے روس کے زیر قبضہ اپنے علاقوں کا تبادلہ کرنے کے حوالہ سے سنجیدہ بات چیت کے لئے تیار ہیں ۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ یوکرین کے لئے امریکا کے بغیر سکیورٹی کی ضمانتیں حقیقی ضمانتیں نہیں ہیں اور وہ اس معاملہ پر صرف یورپ پر انحصار نہیں کر سکتے۔ واضح رہے کہ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران یوکرین جنگ کو بند کرنے اور اس مقصد کے لئے روسی صدر ولادی میرپیوٹن سے بات چیت کے عزائم کا اظہار کر چکے ہیں۔
امریکی صدر نے روس میں قید امریکی شہری مارک فوگل کی رہائی کو روس کی طرف سے امریکا کے لئے خیر سگالی کے جذبے کا اظہار قراردیا ہے ۔ امریکی صدر نے وائٹ ہائوس میں ایک تقریب میں مارک فوگل کا خیر مقدم کیا اور اس موقع پر کہا کہ "روس کی طرف سے ہمارے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا گیا۔
دراصل، مجھے امید ہے کہ یہ ایسے تعلقات کا آغاز ہے جہاں ہم اس جنگ کو ختم کر سکتے ہیں۔”امریکی صدر نے اس موقع پر بتایا کہ روس کی طرف سے عنقریب ایک اور امریکی شہری کو رہا کیا جائےگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انتخابی ریلی میں مارک فوگل کی 95 سالہ والدہ کے ساتھ ملاقات میں ان کے بیٹے کو رہا کرانے کا وعدہ کیا تھا۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=559654