ریاست اور خیبر پختونخوا میں مسئلہ سیاست کا نہیں بلکہ امن و امان کا ہے،حکومت یا ریاست کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اختیار ولی خان اوربیرسٹر دانیال چوہدری کی پریس کانفرنس

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و خیبر پختونخوا امور اختیار ولی خان اور پارلیمانی سیکرٹری برائےاطلاعات بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا ہے کہ ریاست اور خیبر پختونخوا میں مسئلہ سیاست کا نہیں بلکہ امن و امان کا ہے،خیبرپختونخوا حکومت سیاست کریں، جلسے کریں اور ریلیاں نکالیں، کوئی پابندی نہیں تاہم حکومت یا ریاست کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و خیبر پختونخوا امور اختیار ولی خان اور پارلیمانی سیکرٹری برائےاطلاعات بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا ہے کہ ریاست اور خیبر پختونخوا میں مسئلہ سیاست کا نہیں بلکہ امن و امان کا ہے،خیبرپختونخوا حکومت سیاست کریں، جلسے کریں اور ریلیاں نکالیں، کوئی پابندی نہیں تاہم حکومت یا ریاست کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ملک بھر میں یکساں پالیسی پر عملدرآمد ضروری ہے،خیبرپختونخوا میں امن و امان کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے، مذاکرات کے تمام دروازے کھلے رکھے گئے اورحکومت نےبات چیت کو کامیاب بنانے کے لیے پوری سنجیدگی کا مظاہرہ کیاتاہم صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کےتحفظ کے لیے صوبائی حکومت کو اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کرنا ہوں گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم کےکوآرڈینیٹر نے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران خیبر پختونخوا میں تقریباً 6 ہزار 200 دہشت گردی کے واقعات ہوئے جبکہ ان واقعات میں تقریباً 1200 شہادتیں ہوئیں۔ افغان شہریوں کی جانب سے 37 خودکش حملے کیے گئے جبکہ رواں سال 14 خودکش حملے ہوچکے ہیں جن میں اکثریت افغان شہریوں کی تھی۔اختیار ولی خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا سی ٹی ڈی میں صرف 25 اہلکار مستقل ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو پشتون کارڈ کھیلنے سے باز رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ مدینہ کی ریاست سے لے کر نوکریوں کی لالچ تک ان کے وعدے جھوٹے ثابت ہوئے۔انہوں نے کہا کہ یہ لوگ خیبر پختونخوا کو صرف پیسے بنانے کی مشین کے طور پر استعمال کررہے ہیں جبکہ فوج، پولیس اور سکیورٹی ادارے پشتون قوم کو بچانے کے لیے دن رات قربانیاں دے رہے ہیں۔۔

اختیار ولی خان نے کہا کہ قوم جاننا چاہتی ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کس سے ڈکٹیشن لے رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آپ نے 13 سال میں خیبر پختونخوا کو دیا ہی کیا ہے؟ اختیار ولی خان نے کہا کہ صوبے میں کائونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو درکار وسائل فراہم نہیں کیے جا رہے، آئی جی پولیس کی جانب سے سی ٹی ڈی کے لیے 42 ارب روپے طلب کیے گئے تھے تاہم 14 ارب روپے منظور ہوئے اور ان میں سے بھی اب تک تقریباً 1.4 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پشتونوں پرحملےاوروفاقی حکومت کی جانب سے پشتون قوم کو نشانہ بنانے کا تاثر درست نہیں، دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والی پولیس اور دیگر ریاستی ادارے پشتون عوام کے تحفظ کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ملک بھر میں یکساں پالیسی پر عملدرآمد ضروری ہے اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خلاف موثر کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔اختیار ولی خان نے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر پشتون کارڈ استعمال کرکے معاشرے میں انتشار اور قوموں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو سیاسی سرگرمیوں، جلسوں اور ریلیوں کا حق حاصل ہے تاہم انہیں ریاستی اداروں کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔انہوں نےخیبرپختونخوا حکومت پر صوبے میں ترقیاتی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ صوبے کے عوام کو صاف پانی، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کی ضرورت ہے۔وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام اور بالخصوص نوجوانوں کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے متعلقہ سیاسی عناصر پر زور دیا کہ وہ ’’آگ سے کھیلنے‘‘ سے گریز کریں اور دہشت گردی کے خلاف قومی کوششوں میں تعاون کریں۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری برائےاطلاعات بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ گزشتہ روزہونے والے مذاکرات میں پی ٹی آئی کے متعدد رہنما موجود تھے تاہم ان کی جماعت کا مسئلہ یہ رہا ہے کہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ بات چیت کس سے، کتنی اور کب حتمی کی جا سکتی ہے،کبھی بہنیں قیادت لے لیتی ہیں، کبھی خیبرپختونخوا حکومت اور کبھی اپوزیشن جماعت قیادت کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے پوری سنجیدگی کے ساتھ انہیں مذاکرات میں شامل کیا، بات چیت کے تمام دروازے کھلے رکھے، تمام ڈرافٹس حتمی ہو گئے لیکن پھر کہیں سے ایک آواز اٹھی اور تمام معاملات کو ختم کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ایک جماعت جس کی سیاست کا محور تفریق، نفرت اور آگ لگانے کا بیانیہ ہو، اس کے پاس کارکردگی کے حوالے سےکچھ نہیں ہے۔

خیبرپختونخوا میں دو کاموں کا ذکر کیا جاتا ہے، ایک بی آر ٹی جو 6 ارب روپے میں بننا تھی اور 100 ارب روپے سے تجاوز کر گئی جبکہ دوسرا درخت لگانے کا منصوبہ تھا، مالم جبہ اسکینڈل اور بلین ٹری سونامی تھری کا معاملہ بھی سب کے سامنے ہے۔بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ حکومت کی ترجیحات میں دھرنے کو موخر کرنا اولین ترجیح نہیں تھی،ہماری سب سے اہم ترجیح آج بھی امن و امان ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام کی زندگی عذاب بن چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس فرنٹ لائن پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے، لیکن صوبائی حکومت کی ترجیحات میں اپنے شہداء کے جنازے، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور افواج کے حق میں بیانات نظر نہیں آتے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 15 سال سےخیبرپختونخوا میں حکومت موجود ہے لیکن آج تک دہشت گردی کے خلاف موثر کائونٹر ٹیررازم پالیسی نہیں دی جا سکی، یہ کس کی نااہلی، کمزوری اور عدم صلاحیت ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے دور میں انسداد دہشت گردی کے حوالے سے اجلاس ہوتے تھے، پالیسیاں اور حکمت عملیاں بنتی تھیں لیکن نیشنل ایکشن پلان کی کمیٹی یا اس کے کام کو مکمل کیوں نہیں کیا گیا، اس کا جواب دیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ دنوں میں افغانستان کی طرف سے 11 ڈرون حملے ہوئےتاہم خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے فتنۃ الخوارج،سرحد پار دراندازی اور ان عناصر کے خلاف واضح اور دوٹوک موقف سامنے نہیں آیا جو ہمارے بچوں کو شہید کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسی غیر قانونی معیشت کے خلاف ہے جس میں بھتہ خوری، سمگلنگ، دہشت گردی کی معاونت اور نان کسٹم پیڈ گاڑیاں شامل ہیں۔ ان کی جماعت کے حالات بھی نان کسٹم پیڈ گاڑی کی طرح ہو گئے ہیں۔پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ جو رہنما اپنے بچوں کو بیرون ملک رکھ کر میکڈونلڈز اور کے ایف سی میں کھانا کھاتے ہیں، وہ دوسرے لوگوں کے بچوں کو سر پر کفن باندھ کر آنے اور وفاق و پاکستان پر حملہ کرنے کا نہیں کہہ سکتے۔انہوں نے کہا کہ رہنمائوں کا کام لوگوں کو اکٹھا کرنا، اختلافات اور مسائل کو ایک طرف رکھنا، اپنے لوگوں کو اپنے بچوں کی طرح سمجھنا اور مفاہمت کے ذریعے مسائل حل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے سکیورٹی اہلکار اور فوجی جوان 22، 23 اور 24 سال کی عمر میں پاکستان کے پرچم اور ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں تاکہ ملک کے عوام محفوظ رہیں۔ ایسے میں دہشت گردوں کی مذمت نہ کرنا اور ان کے خلاف واضح موقف اختیار نہ کرنا قابل تشویش ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس نے فرنٹ لائن پر دہشت گردی کا مقابلہ کیا، پولیس نے تقریباً 42 ارب روپے مانگے تھے کیونکہ وہ فرنٹ لائن فائٹرز ہیں، لیکن انہیں صرف ڈیڑھ ارب روپے دیئے گئے جبکہ صوبے میں بیوٹیفکیشن اور دیگر منصوبوں پر 200 ارب روپے خرچ کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ پولیس مینجمنٹ ایپ 2026 بھی صوبائی حکومت کی طرف سے ایک تحفہ ہےجس کے ذریعے پولیس افسران کو ہٹانے اور تبدیل کرنے کے اختیارات استعمال کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 15 برسوں میں صوبے سے لوگ اپنی جمع پونجی چھوڑ کر صرف صوبائی حکومت کی نااہلی اور ناقص گورننس کی وجہ سے نقل مکانی کر گئے ہیں۔ فتنۃ الخوارج اور ایسے عناصر کے حوالے سے صوبائی حکومت کو واضح لکیر کھینچنا ہوگی۔

بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کو کامیاب بنانے کی پوری کوشش صرف اس لیے کی کہ پاکستان میں دہشت گردی کی موجودہ لہر کو روکا جا سکے،ہماری اولین ترجیح خیبرپختونخوا کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنا اور جاری دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو بتانا ہوگا کہ صوبے کو کون چلا رہا ہے، صوبے کے عوام کی حفاظت اور سکیورٹی کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی جماعت عوام کی حفاظت اور سکیورٹی کے لیے سنجیدہ نہیں اور تمام معاملات کو سیاسی شہادت اور سیاسی انتقام کے طور پر پیش کرے تو کیا پورے صوبے کو جلنے کے لیے چھوڑ دیا جائے، کیا صوبے کے بچوں کو شہید ہونے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔

مزید خبریں