ملتان ۔ 18 اکتوبر (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما راؤ ساجد نے کہا ہے کہ سانحہ کارساز کو 17 برس گذر گئے لیکن ہمارے زخم آج بھی تازہ ہیں۔
اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے راؤ ساجد نے کہا کہ ہماری لیڈر کو اللہ نے عزت بھی بہت دی اور انہوں نے دکھ بھی بہت جھیلے اور آخر کار دہشت گردوں کا نشانہ بن گئیں ۔ انہوں نے کہا میں اس روز محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ٹرک میں سوار تھا ۔ ہم بہت خوش تھے ،
بے نظیر بھٹو دوسری مرتبہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئی تھیں پہلی مرتبہ اہل لاہور نے1986 میں ان کا والہانہ استقبال کر کے تاریخ رقم کی تھی اور 18اکتوبر 2007 کو پورا کراچی ان کے استقبال کے لیے امڈ آیا تھا ۔ انہوں نے کہا لوگ جشن مناتے ہوئے منزل کی جانب رواں دواں تھے کہ کارساز کے قریب فائرنگ اور دو دھماکے ہوئے ۔ پہلے دھماکے کے بعد کارکنوں نے فرار ہونے کی بجائے خود کو محترمہ کے لیے ڈھال بنا لیا ۔ پھر دوسرا دھماکہ ہوا اور سیکڑوں کارکن لقمہ اجل بن گئے ۔راؤ ساجد نے بتایا کہ وہ بھی اس حملے میں زخمی ہو گئے تھے انہیں آغا خان ہسپتال منتقل کر دیا گیا ۔ اگلے روز بے نظیر بھٹو خودہماری عیادت کے لیے ہسپتال پہنچیں اور جب وہ آئیں تو ہم اپنے زخم بھی بھول گئے ۔ انہوں نے کہا ہم آج بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں اور شہید بی بی کے بیٹے بلاول کی قیادت میں عوامی حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔
395
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=514464