ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب رعنا حمید نے اپنے عہدے کا باقاعدہ چارج سنبھالنے کے بعد ضلعی افسران سے تعارفی ملاقات کی اور ضلع بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں، عوامی خدمت کے اقدامات اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیے گئے انتظامات پر تفصیلی بریفنگ حاصل کی
سانگلہ ہل ،عوامی خدمت، شفاف طرز حکمرانی اور بہتر سروس ڈیلیوری میری اولین ترجیح ہے۔،ڈپٹی کمشنر ننکانہ رعنا حمید

مزید خبریں
سانگلہ ہل ۔ 16 جولائی (اے پی پی):ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب رعنا حمید نے اپنے عہدے کا باقاعدہ چارج سنبھالنے کے بعد ضلعی افسران سے تعارفی ملاقات کی اور ضلع بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں، عوامی خدمت کے اقدامات اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیے گئے انتظامات پر تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔اجلاس میں مختلف محکموں کے افسران نے ڈپٹی کمشنر کو اپنے اپنے شعبوں کی کارکردگی، جاری ترقیاتی سکیموں، عوامی فلاحی منصوبوں اور مون سون کے دوران ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کو یقینی بنایا جائے اور عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس کے دوران ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا ۔ ڈپٹی کمشنر کو بتایا گیا کہ حساس مقامات کی نشاندہی، ہنگامی مشینری کی دستیابی، ریسکیو اداروں کے ساتھ رابطوں اور دیگر حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اور مؤثر ردعمل یقینی بنایا جا سکے۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر رعنا حمید نے کہا کہ "عوامی خدمت، شفاف طرز حکمرانی اور بہتر سروس ڈیلیوری میری اولین ترجیح ہے۔ حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق شہریوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ "ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے مکمل طور پر الرٹ رہیں۔ پیشگی حفاظتی اقدامات، بین الادارہ جاتی رابطوں اور مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر رعنا حمید نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ فیلڈ میں اپنی موجودگی بڑھائیں، عوامی شکایات کا فوری ازالہ کریں اور ضلع ننکانہ صاحب کو ایک مثالی، صاف ستھرا اور عوام دوست ضلع بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔








