سندھ حکومت نے پہلی سندھ سپورٹس پالیسی متعارف کرانے، سندھ یوتھ کارڈ کے اجرا کے عمل کو تیز کرنے اور سندھ سپورٹس بورڈ کو مزید فعال بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے
سندھ حکومت کا پہلی سندھ سپورٹس پالیسی متعارف کرانے کا فیصلہ

مزید خبریں
کراچی۔ 16 جولائی (اے پی پی):سندھ حکومت نے پہلی سندھ سپورٹس پالیسی متعارف کرانے، سندھ یوتھ کارڈ کے اجرا کے عمل کو تیز کرنے اور سندھ سپورٹس بورڈ کو مزید فعال بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔جمعرات کو جاری اعلامیہ کے مطابق یہ فیصلہ وزیر کھیل و امور نوجوانان سندھ سردار محمد بخش مہر کی زیر صدارت منعقدہ اہم اجلاس میں کیا گیا، جس میں سیکرٹری کھیل منور علی مہیسر، ایڈیشنل سیکرٹری اسد اسحاق، چیف انجینئر محمد اسلم مہر، ڈپٹی ڈائریکٹر حبیب اللہ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں سندھ سپورٹس پالیسی، سندھ سپورٹس بورڈ اور سندھ یوتھ کارڈ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر کھیل نے کہا کہ سندھ یوتھ کارڈ کے ذریعے صوبے کے 30 اضلاع کے 15سے 29سال عمر کے ایک لاکھ نوجوانوں کو مختلف سہولیات فراہم کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ یوتھ کارڈ کے تحت نوجوانوں کو تعلیمی سکالرشپس، کاروبار کے لیے بلا سود قرضے، مالی معاونت، عالمی معیار کی سکلز ٹریننگ اور سفری سہولیات سمیت مختلف شعبوں میں ممکنہ خصوصی رعایات فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر سندھ یوتھ کارڈ کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور یہ منصوبہ جلد نوجوانوں کے لیے متعارف کرایا جائے گا۔وزیر کھیل نے محکمہ امور نوجوانان کو نوجوانوں کے لیے مزید فلاحی اور ترقیاتی پروگرام متعارف کرانے کی بھی ہدایت دی۔سردار محمد بخش مہر نے کہا کہ مجوزہ سندھ سپورٹس پالیسی صوبے میں کھیلوں اور کھلاڑیوں کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے ذریعے قدیم و جدید کھیلوں کے فروغ، کھلاڑیوں کی فلاح، کھیلوں کے انفرا اسٹرکچر کی توسیع، سپورٹس ایسوسی ایشنز کی رجسٹریشن کے طریقہ کار کا تعین اور سکولوں و کالجوں میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو ازسرنو فعال بنایا جائے گا۔اجلاس میں سیکرٹری کھیل منور علی مہیسر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مجوزہ سندھ سپورٹس پالیسی پر محکمہ تعلیم، کالجز، جامعات و بورڈز، صحت، قانون، ڈی پی ڈی اور سندھ اولمپک ایسوسی ایشن سمیت متعلقہ اداروں سے تجاویز طلب کی گئی ہیں۔وزیر کھیل نے بتایا کہ پہلی سندھ سپورٹس پالیسی منظوری کے لیے سندھ کابینہ میں پیش کی جائے گی، جس کے بعد اسے نافذالعمل بنایا جائے گا۔








