اسلام آباد۔30جولائی (اے پی پی):سال 2025 میں شدید گرمی اور موسلا دھار مون سون بارشوں کے دوران، چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت ساہیوال کول فائرڈ پاور پلانٹ نے اپنی 1,320 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے ساتھ قومی گرڈ کی پائیداری کا مضبوط ستون ثابت ہوا۔ اس پلانٹ نے بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافے کے دوران بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب …
ساہیوال پاور پلانٹ نے ملک کے گرڈ کو مشکل ترین موسم میں مستحکم رکھا
اسلام آباد۔30جولائی (اے پی پی):سال 2025 میں شدید گرمی اور موسلا دھار مون سون بارشوں کے دوران، چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت ساہیوال کول فائرڈ پاور پلانٹ نے اپنی 1,320 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے ساتھ قومی گرڈ کی پائیداری کا مضبوط ستون ثابت ہوا۔
اس پلانٹ نے بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافے کے دوران بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک کو بجلی کی شدید ضرورت تھی۔ترجمان کے مطابق، ساہیوال پلانٹ نے اپنے تزویراتی محل وقوع، مضبوط بیس لوڈ صلاحیت، اور قومی ٹرانسمیشن نیٹ ورک میں مربوط تکنیکی شمولیت کے باعث آزاد سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) کو گرڈ کے استحکام میں اہم معاونت فراہم کی۔مئی سے جولائی 2025 کے دوران، پاکستان نے حالیہ برسوں کی بلند ترین درجہ حرارت کا سامنا کیا، جس سے لاہور، ملتان، اور فیصل آباد سمیت بڑے شہری و زرعی علاقوں میں بجلی کی مانگ ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی۔
ایئرکنڈیشننگ، ریفریجریشن، آبپاشی اور صنعتی سرگرمیوں نے بجلی کے نظام پر شدید دباؤ ڈالا، اور یومیہ بجلی کی طلب تقریباً 30,000 میگاواٹ تک جا پہنچی۔ایسے حالات میں، ساہیوال پاور پلانٹ نے ایک قابلِ اعتماد بیس لوڈ یونٹ کے طور پر تسلسل سے بجلی فراہم کی، جس نے نہ صرف نظام کی فریکوئنسی کو 50 ہرٹز کے قریب رکھا بلکہ وولٹیج کے اتار چڑھاؤ کو بھی کنٹرول میں رکھا، خاص طور پر وسطی اور جنوبی پنجاب میں۔پلانٹ کی شمولیت یوسفوالہ 500 کے وی سب سٹیشن کے ذریعے قومی گرڈ میں ہوئی، جہاں سے زیادہ طلب والے علاقوں کو بجلی کی ترسیل بہتر ہوئی۔
ماضی میں یوسفوالہ کے ٹرانسفارمرز اپنی مکمل صلاحیت سے کم استعمال ہو رہے تھے، لیکن پلانٹ کی مسلسل پیداوار کے باعث اب یہ اثاثے مکمل طور پر فعال ہو چکے ہیں۔ اضافی 600 ایم وی اے ٹرانسفارمر کی تنصیب سے وولٹیج ریگولیشن مزید بہتر ہوئی اور ٹیکنیکل لاسز میں کمی آئی۔پلانٹ کی ایک اور اہم خصوصیت اس کی قادرباد کے مقام پر 500 کے وی لائن میں بائی ڈائریکشنل لوپ کے ذریعے لچکدار ترسیلی صلاحیت ہے۔ اس سے آئی ایس ایم او کو بجلی کے بہاؤ کو حالات کے مطابق تبدیل کرنے کی سہولت ملی، خاص طور پر ہنگامی حالات میں جب فوری فیصلے درکار ہوتے ہیں۔
مون سون کے دوران، جب بارشوں، آسمانی بجلی، اور سیلاب کے باعث ہائیڈرو پاور میں تعطل آیا، تو ساہیوال پلانٹ نے فوری طور پر پیداوار میں اضافہ کر کے بجلی کی فراہمی کو مستحکم رکھا۔آئی ایس ایم اوکے نیشنل پاور کنٹرول سنٹر کے ساتھ ریئل ٹائم کوآرڈینیشن، خودکار کنٹرول سسٹمز، اور تیز رفتار کمیونیکیشن سسٹمز نے پلانٹ کو فوری ردعمل کی صلاحیت فراہم کی۔2025 میں ساہیوال پلانٹ کی شاندار کارکردگی کے باعث گیپکو ،لیسکواور میپکو کے کئی علاقوں میں لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔
صارفین نے بہتر وولٹیج، کم تعطل، اور بہتر خدمات کا مشاہدہ کیا۔ساہیوال کول پاور پلانٹ نے 2025 کے موسمِ گرما میں قومی گرڈ کو سنبھالنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس کی مسلسل پیداوار، وولٹیج و فریکوئنسی سپورٹ، ترسیلی نظام کی بہتری، اور ہنگامی حالات میں فوری ردعمل نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ بیس لوڈ تھرمل پلانٹس قومی توانائی سلامتی کے لیے ناگزیر ہیں۔









