سعودی عرب، دو نئے سمندری محفوظ علاقے راس حاطبہ اور بلیو ہولز قومی ریزرو زکی فہرست میں شامل

ریاض۔13نومبر (اے پی پی):سعودی عرب کی وزرا کونسل نے محفوظ سمندری علاقوں راس حاطبہ اور بلیو ہولز کو مملکت کی قومی ریزرو زکی فہرست میں شامل کر لیا ۔ اردو نیوز کے مطابق نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف کے سی ای او محمد قربان نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ جامع مشاہدوں کے بعد کیا گیا۔ ان مشاہدوں نے ثابت کیا کہ دونوں محفوظ علاقوں میں منفرد حیاتیاتی تنوع موجود …

ریاض۔13نومبر (اے پی پی):سعودی عرب کی وزرا کونسل نے محفوظ سمندری علاقوں راس حاطبہ اور بلیو ہولز کو مملکت کی قومی ریزرو زکی فہرست میں شامل کر لیا ۔ اردو نیوز کے مطابق نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف کے سی ای او محمد قربان نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ جامع مشاہدوں کے بعد کیا گیا۔ ان مشاہدوں نے ثابت کیا کہ دونوں محفوظ علاقوں میں منفرد حیاتیاتی تنوع موجود ہے اور ان کی معاشی و سیاحتی اہمیت بھی نمایاں ہے۔

انہوں نے وزرا کونسل کی جانب سے سمندری محفوظ علاقوں بلیوہولز اور راس حاطبہ کو قومی ریزروز کی فہرست میں شامل کیے جانے کی منظوری پر اعلیٰ قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس اقدام کو ماحولیاتی تحفظ اور سعودی گرین انیشیٹو و مملکت کے وژن 2030 کے اہداف کے مطابق قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ مرکز عالمی معیار کے مطابق ایک جامع قومی نظام تشکیل دے رہا ہے جس کے تحت مملکت کی 30 فیصد زمینی اور سمندری حدود کو 2030 تک محفوظ قرار دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، یہ اقدام حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور وژن 2030 کے تحت پائیدار ترقی کے اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے سعودی عرب کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

واضح رہے کہ الثقوب الزرقا (بلیوہولوز جسے عربی زبان میں عام طور پر عمودی غار بھی کہا جاتا ہے، کافی گہرائی میں ہیں) کا علاقہ سعودی عرب کے مغربی سمت میں مکہ مکرمہ اور جازان ریجن کے درمیان 16500 کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے جو اپنی سحرانگیز ارضیاتی بناوٹ اور نایاب حیاتیاتی تنوع کے باعث سائنس دانوں، محققین اور غوطہ خوروں کے لئے بے حد پُرکشش مقام ہے، اس علاقے میں 20 سے زائد جزیرے ہیں جو رنگ برنگی مرجانوں، مچھلیوں، ڈولفنز اور سمندری کچھوؤں سے بھرے پڑے ہیں۔

بلیو ہولز قدرتی اور ماحولیاتی نظام ہیں جو حیاتیاتی تنوع اور سمندری حیات سے مالا مال ہیں جبکہ راس حاطبہ جدہ کے شمال مغرب میں واقع ہے اور 5715 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے، یہاں مرجان کی چٹانیں، مینگرووز اور سمندری گھاس بکثرت پائی جاتی ہیں۔ اس کی دوسری وجہ شہرت یہ ہے کہ یہاں سبز کچھوے اور ڈوگونگ (سمندری گائے) جیسے نایاب سمندری جانداروں کے لئے قدرتی پناہ گاہیں موجود ہیں، اس علاقے میں وہیل، ڈولفن اور شارک وغیرہ کی موجودگی کے آثار بھی ملے ہیں۔ خیال رہے ان دو نئے ریزورز (محفوظ علاقے)کے اضافے کے بعد مملکت میں محفوظ سمندری علاقوں کا تناسب چھ اعشاریہ پانچ فیصد سے بڑھ کر 16 اعشاریہ ایک فیصد ہو گیا ہے۔

 

مزید خبریں